کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: غیر اللہ کے لیے ذبح کرنے والوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 4427
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ ابْنِ حَيَّانَ يَعْنِي مَنْصُورًا ، عَنْ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ عَلِيًّا ، هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسِرُّ إِلَيْكَ بِشَيْءٍ دُونَ النَّاسِ ؟ , فَغَضِبَ عَلِيٌّ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ ، وَقَالَ : مَا كَانَ يُسِرُّ إِلَيَّ شَيْئًا دُونَ النَّاسِ ، غَيْرَ أَنَّهُ حَدَّثَنِي ، بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ ، وَأَنَا وَهُوَ فِي الْبَيْتِ ، فَقَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَهُ ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ مَنَارَ الْأَرْضِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک شخص نے علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو چھوڑ کر آپ کو کوئی راز کی بات بتاتے تھے ؟ اس پر علی رضی اللہ عنہ غصہ ہو گئے یہاں تک کہ ان کا چہرہ لال پیلا ہو گیا اور کہا : آپ لوگوں کو چھوڑ کر مجھے کوئی بات راز کی نہیں بتاتے تھے ، سوائے اس کے کہ آپ نے مجھے چار باتیں بتائیں ، میں اور آپ ایک گھر میں تھے ، آپ نے فرمایا : ” اللہ اس پر لعنت کرے جس نے اپنے والد ( ماں یا باپ ) پر لعنت کی ، اللہ اس پر بھی لعنت کرے جس نے غیر اللہ کے لیے ذبح کیا ، اللہ اس پر لعنت کرے جس نے کسی بدعتی کو پناہ دی ۱؎ ، اور اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے جس نے زمین کی حد کے نشانات بدل ڈالے “ ۲؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اس کی تائید و حمایت کی اور بدعت سے خوش ہوا۔ ۲؎: مثلاً دو آدمیوں کی زمین کو الگ کرنے والے نشانات بدلے، اور اس سے مقصد دوسری کی زمین میں سے کچھ ہتھیا لینا ہو۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الضحايا / حدیث: 4427
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الأضاحي 8 (1978)، (تحفة الأشراف: 10152) مسند احمد (1/108، 118، 152) (صحیح)»