کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: سامنے سے کان کٹے ہوئے جانور کی قربانی منع ہے۔
حدیث نمبر: 4377
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحِيمِ وَهُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ ، وَأَنْ لَا نُضَحِّيَ بِمُقَابَلَةٍ ، وَلَا مُدَابَرَةٍ ، وَلَا بَتْرَاءَ ، وَلَا خَرْقَاءَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم ( جانوروں کے ) آنکھ اور کان دیکھ لیں اور کسی ایسے جانور کی قربانی نہ کریں جس کا کان سامنے سے کٹا ہو ، یا جس کا کان پیچھے سے کٹا ہو ، اور نہ دم کٹے جانور کی ، اور نہ ایسے جانور کی جس کے کان میں سوراخ ہوں ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الضحايا / حدیث: 4377
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف لكن جملة الاستشراف صحيحة , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2804) ترمذي (1498) ابن ماجه (3142) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 354
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الضحایا 6 (2804)، سنن الترمذی/الضحایا6(1498)، سنن ابن ماجہ/الضحایا 8 (3142)، (تحفة الأشراف: 10125)، مسند احمد (1/80، 108، 128، 149)، سنن الدارمی/الأضاحی3(1995)، ویأتی فیما یلی: 4378-4380 (ضعیف) (اس کے راوی ’’ابواسحاق‘‘ مختلط اور مدلس ہیں، نیز ’’شریح‘‘ سے ان کا سماع نہیں ہے، اس لیے سند میں انقطاع بھی ہے، مگر مطلق کان ناک دیکھ بھال کر لینے کا حکم صحیح ہے، دیکھئے حدیث نمبر 4381، اور حاشیہ نمبر حدیث 4374)»