کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: قتل کی حرمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4121
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَنْصُورٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ رِبْعِيًّا يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَشَارَ الْمُسْلِمُ عَلَى أَخِيهِ الْمُسْلِمِ بِالسِّلَاحِ , فَهُمَا عَلَى جُرُفِ جَهَنَّمَ ، فَإِذَا قَتَلَهُ خَرَّا جَمِيعًا فِيهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب ایک مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی پر ہتھیار اٹھائے ( اور دونوں جھگڑنے کے ارادے سے ہوں ) تو وہ دونوں جہنم کے کنارے پر ہیں ، جب ایک دوسرے کو قتل کرے گا تو دونوں ہی اس میں جا گریں گے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس لیے کہ دونوں ہی ایک دوسرے کے قتل کے درپے تھے، ایک کامیاب ہو گیا۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب تحريم الدم / حدیث: 4121
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الفتن 10 (7083 تعلیقًا)، صحیح مسلم/الفتن 4 (2888)، سنن ابن ماجہ/الفتن 11 (3965)، (تحفة الأشراف: 11672)، مسند احمد (5/41) (صحیح)»
حدیث نمبر: 4122
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : " إِذَا حَمَلَ الرَّجُلَانِ الْمُسْلِمَانِ السِّلَاحَ أَحَدُهُمَا عَلَى الْآخَرِ , فَهُمَا عَلَى جُرُفِ جَهَنَّمَ ، فَإِذَا قَتَلَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ فَهُمَا فِي النَّارِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` جب دو مسلمان آپس میں ایک دوسرے کے خلاف ہتھیار اٹھا لیں تو وہ دونوں جہنم کے کنارے پر ہیں ، پھر جب ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کرے گا تو وہ دونوں جہنم میں ہوں گے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب تحريم الدم / حدیث: 4122
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح موقوف , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (صحیح)»
حدیث نمبر: 4123
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا , فَقَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ ، فَهُمَا فِي النَّارِ " ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ ؟ قَالَ : " أَرَادَ قَتْلَ صَاحِبِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب دو مسلمان اپنی تلواروں کے ساتھ آمنے سامنے ہوں اور ان میں ایک دوسرے کو قتل کر دے تو وہ دونوں جہنم میں ہوں گے “ ، عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! یہ تو قاتل ہے ، لیکن مقتول کا قصور کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” اس نے اپنے ( مقابل ) ساتھی کو مارنا چاہا تھا “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب تحريم الدم / حدیث: 4123
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الفتن 11 (3964)، (تحفة الأشراف: 8984)، مسند احمد (4/401، 403، 410، 418) ویأتي عند المؤلف فیما یلي وبرقم4129 (صحیح)»
حدیث نمبر: 4124
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا , فَقَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ , فَهُمَا فِي النَّارِ " . مِثْلَهُ سَوَاءً .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب دو مسلمان تلواروں کے ساتھ آمنے سامنے ہوں ، پھر ان میں سے ایک اپنے ساتھی کو قتل کر دے تو وہ دونوں جہنم میں ہوں گے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب تحريم الدم / حدیث: 4124
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (صحیح)»
حدیث نمبر: 4125
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمِصِّيصِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَلَفٌ عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا يُرِيدُ قَتْلَ صَاحِبِهِ , فَهُمَا فِي النَّارِ " . قِيلَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ ؟ ، قَالَ : " إِنَّهُ كَانَ حَرِيصًا عَلَى قَتْلِ صَاحِبِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب دو مسلمان اپنی تلواروں کے ساتھ آمنے سامنے ہوں ، ان میں سے ہر ایک دوسرے کو قتل کرنا چاہتا ہو ، تو وہ دونوں جہنم میں ہوں گے “ ۔ آپ سے عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! یہ تو قاتل ہے لیکن مقتول کا کیا معاملہ ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” وہ بھی تو اپنے ساتھی کے قتل کا حریص اور خواہشمند تھا “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب تحريم الدم / حدیث: 4125
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 11666)، مسند احمد 5/46، 51، یأتي فیما یلي: 4126 (صحیح)»
حدیث نمبر: 4126
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْخَلِيلُ بْنُ عُمَرَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنِي قَتَادَةُ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا ، فَقَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ ، فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب دو مسلمان اپنی تلواروں کے ساتھ بھڑ جائیں پھر ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کر دے تو قاتل و مقتول دونوں جہنم میں ہوں گے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب تحريم الدم / حدیث: 4126
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (صحیح)»
حدیث نمبر: 4127
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ فَضَالَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا ، فَقَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ ، فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا الْقَاتِلُ , فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ ؟ ، قَالَ : " إِنَّهُ أَرَادَ قَتْلَ صَاحِبِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جب دو مسلمان اپنی تلواروں کے ساتھ آمنے سامنے ہوں پھر ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کر دے تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں ہوں گے “ ، انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! یہ تو قاتل ہے آخر مقتول کا کیا معاملہ ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” اس نے بھی اپنے ساتھی کے قتل کا ارادہ کیا تھا “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب تحريم الدم / حدیث: 4127
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الإیمان 22 (31)، الدیات 2 (6875)، الفتن 10 (7082)، صحیح مسلم/الفتن 4 (2888)، سنن ابی داود/الفتن 5 (4268، 4269)، (تحفة الأشراف: 11655)، مسند احمد (5/43، 51) (صحیح)»
حدیث نمبر: 4128
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَيُونُسَ ، وَالْعَلَاءِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا ، فَقَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ ، فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب دو مسلمان اپنی تلواروں کے ساتھ بھڑ جائیں پھر ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کر دے تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں ہوں گے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب تحريم الدم / حدیث: 4128
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (صحیح)»
حدیث نمبر: 4129
أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا , فَقَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ ، فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ " . قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا الْقَاتِلُ , فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ ؟ ، قَالَ : " إِنَّهُ أَرَادَ قَتْلَ صَاحِبِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب دو مسلمان اپنی تلواروں کے ساتھ آمنے سامنے ہوں پھر ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کر دے تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں ہوں گے “ ، ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! یہ تو قاتل ہے لیکن مقتول کا کیا معاملہ ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” اس نے بھی اپنے ساتھی کے قتل کا ارادہ کیا تھا “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب تحريم الدم / حدیث: 4129
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 4123 (صحیح)»
حدیث نمبر: 4130
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میرے بعد کافر نہ ہو جانا ۱؎ کہ تم آپس میں ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی کافروں کی طرح نہ ہو جانا کہ کفریہ اعمال کرنے لگو، جیسے ایک دوسرے کو ناحق قتل کرنا۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب تحريم الدم / حدیث: 4130
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/المغازي 77 (4402)، الأدب 95 (6043)، الحدود 9 (6785)، الدیات 2 (6868)، الفتن 8 (7077)، صحیح مسلم/الإیمان 29 (66، 4403)، سنن ابی داود/السنة 16 (4686)، سنن ابن ماجہ/الفتن5(3943)، (تحفة الأشراف: 7418) مسند احمد (2/85، 87، 104) (صحیح)»
حدیث نمبر: 4131
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ لَا يُؤْخَذُ الرَّجُلُ بِجِنَايَةِ أَبِيهِ ، وَلَا جِنَايَةِ أَخِيهِ " . قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : هَذَا خَطَأٌ ، وَالصَّوَابُ مُرْسَلٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ تم آپس میں ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو ، آدمی کو نہ اس کے باپ کے گناہ کی وجہ سے پکڑا جائے گا اور نہ ہی اس کے بھائی کے گناہ کی وجہ سے “ ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : یہ غلط ہے ( کہ یہ متصل ہے ) صحیح یہ ہے کہ یہ مرسل ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی: جس سند میں مسروق ہیں اس سند سے اس روایت کا مرسل ہونا ہی صواب ہے، مسروق کے واسطے سے جس نے اس روایت کو متصل کر دیا ہے اس نے غلطی کی ہے، یہ مطلب نہیں ہے کہ سرے سے یہ حدیث ہی مرسل ہے، دیگر محدثین کی سندیں متصل ہیں۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب تحريم الدم / حدیث: 4131
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7452)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 4132-4134) (صحیح)»
حدیث نمبر: 4132
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ، وَلَا يُؤْخَذُ الرَّجُلُ بِجَرِيرَةِ أَبِيهِ ، وَلَا بِجَرِيرَةِ أَخِيهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ آپس میں ایک دوسرے کی گردنیں مارو ، کوئی شخص اپنے باپ کے گناہ کی وجہ سے نہ پکڑا جائے گا اور نہ ہی اس کے بھائی کے گناہ کی وجہ سے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب تحريم الدم / حدیث: 4132
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 4131 (صحیح)»
حدیث نمبر: 4133
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا أُلْفِيَنَّكُمْ تَرْجِعُونَ بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ , لَا يُؤْخَذُ الرَّجُلُ بِجَرِيرَةِ أَبِيهِ ، وَلَا بِجَرِيرَةِ أَخِيهِ " . هَذَا الصَّوَابُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مسروق کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں تمہیں اس طرح نہ پاؤں کہ تم میرے بعد کافر ہو جاؤ کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں مارو ، آدمی سے نہ اس کے باپ کے جرم و گناہ کا مواخذہ ہو گا اور نہ ہی اس کے بھائی کے جرم و گناہ کا “ ۔ یہی صحیح ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی مسروق کی سند سے مرسل روایت ہی صحیح ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب تحريم الدم / حدیث: 4133
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 4131 (صحیح) (اس لیے کہ یہ روایت مرسل ہے)»
حدیث نمبر: 4134
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا " . مُرْسَلٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مسروق کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے بعد کافر نہ ہو جانا “ ۔ ( یہ حدیث ) مرسل ہے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب تحريم الدم / حدیث: 4134
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 4131(صحیح) (مسروق نے صحابی کا ذکر نہیں کیا، اس لیے یہ روایت بھی مرسل ہے، لیکن دوسرے طرق سے تقویت پاکر حدیث صحیح ہے)»
حدیث نمبر: 4135
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي ضُلَّالًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ آپس میں ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب تحريم الدم / حدیث: 4135
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 11700)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/المناسک 68 (1947) مسند احمد (5/37، 44، 45، 49) (صحیح)»
حدیث نمبر: 4136
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ , قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ بْنَ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ اسْتَنْصَتَ النَّاسَ ، قَالَ : " لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃالوداع میں لوگوں کو خاموش کیا اور فرمایا : ” میرے بعد تم کافر نہ ہو جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب تحريم الدم / حدیث: 4136
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/العلم 43 (121)، المغازي 77 (4405)، الدیات 2 (6869)، الفتن 8 (7080)، صحیح مسلم/الإیمان 29 (65)، سنن ابن ماجہ/الفتن 5 (3942)، (تحفة الأشراف: 3236)، مسند احمد (4/358، 363، 366)، سنن الدارمی/المناسک 76 1962) (صحیح)»
حدیث نمبر: 4137
أَخْبَرَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ : بَلَغَنِي أَنَّ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْتَنْصِتِ النَّاسَ " ، ثُمَّ قَالَ : " لَا أُلْفِيَنَّكُمْ بَعْدَ مَا أَرَى تَرْجِعُونَ بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگوں سے خاموش رہنے کو کہو “ ، پھر فرمایا : ” اس کے بعد جب میں تمہیں دیکھوں ( قیامت کے روز ) تو ایسا نہ پاؤں کہ تم کافر ہو جاؤ اور ایک دوسرے کی گردنیں مارو “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب تحريم الدم / حدیث: 4137
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 3244) (صحیح)»