کتب حدیث ›
سنن نسائي › ابواب
› باب: غلام مشرکین کے علاقہ میں بھاگ جائے اس کا بیان اور جریر رضی الله عنہ کی حدیث کی روایت میں شعبی پر اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 4054
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى مَوَالِيهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب غلام بھاگ جائے تو اس کی نماز قبول نہیں ہو گی یہاں تک کہ وہ اپنے مالک کے پاس لوٹ آئے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس کی نماز قبول نہیں ہو گی، یعنی اس کا اجر و ثواب نہیں ملے گا، البتہ دینا میں اس پر سے نماز کی فرضیت ساقط ہو جائے گی۔
حدیث نمبر: 4055
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ ، عَنْ جَرِيرٍ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : كَانَ جَرِيرٌ يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ ، وَإِنْ مَاتَ مَاتَ كَافِرًا " . وَأَبَقَ غُلَامٌ لِجَرِيرٍ , فَأَخَذَهُ ، فَضَرَبَ عُنُقَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب غلام بھاگ جائے تو اس کی نماز قبول نہیں ہو گی ، اور اگر وہ مر گیا تو وہ کفر کی حالت میں مرا “ ۔ اور جریر رضی اللہ عنہ کا ایک غلام بھاگ گیا تو آپ نے اسے پکڑا اور اس کی گردن اڑا دی ۔
حدیث نمبر: 4056
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ إِلَى أَرْضِ الشِّرْكِ فَلَا ذِمَّةَ لَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` جب غلام مشرکوں کے ملک میں بھاگ جائے تو پھر اس کا ذمہ نہیں ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اس کی امان کی ذمہ داری اسلامی حکومت پر نہیں۔