کتب حدیث ›
سنن نسائي › ابواب
› باب: ایک آدمی قسم کھائے اور دوسرا اس کے لیے ان شاءاللہ کہے تو کیا استثناء کا اعتبار ہو گا؟
حدیث نمبر: 3862
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ , قَالَ : أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ , قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ , مِمَّا حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ , مِمَّا ذَكَرَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ بِهِ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ : لَأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى تِسْعِينَ امْرَأَةً , كُلُّهُنَّ يَأْتِي بِفَارِسٍ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ . فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ : إِنْ شَاءَ اللَّهُ , فَلَمْ يَقُلْ : إِنْ شَاءَ اللَّهُ , فَطَافَ عَلَيْهِنَّ جَمِيعًا , فَلَمْ تَحْمِلْ مِنْهُنَّ إِلَّا امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ , جَاءَتْ بِشِقِّ رَجُلٍ , وَأَيْمُ الَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ , لَوْ قَالَ : إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُرْسَانًا أَجْمَعِينَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سلیمان بن داود علیہ السلام نے ( قسم کھا کر ) کہا : آج رات میں نوے بیویوں کے پاس جاؤں گا ، ان میں سے ہر کوئی ایک سوار کو جنم دے گی جو اللہ کے راستے میں جہاد کرے گا ، تو ان کے ساتھی نے ان سے کہا : ” ان شاءاللہ “ ( اگر اللہ نے چاہا ) مگر خود انہوں نے نہیں کہا ، پھر وہ ان تمام عورتوں کے پاس گئے لیکن ان میں سوائے ایک عورت کے کوئی بھی حاملہ نہ ہوئی اور اس نے بھی ایک ادھورے بچے کو جنم دیا ، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ! اگر انہوں نے ” ان شاءاللہ “ کہا ہوتا تو وہ تمام بیٹے اللہ کی راہ میں سوار ہو کر جہاد کرتے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ قسم کھانے والے نے اگر بذات خود ” ان شاءاللہ “ نہیں کہا ہے بلکہ کسی اور نے کہا ہے تو یہ استثناء قسم کھانے والے کے حق میں مفید نہ ہو گا (یعنی: اگر قسم توڑی تو حانث ہو جائے گا)۔