حدیث نمبر: 3801
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ خَالِدٍ . ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ سِوَى الْإِسْلَامِ كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا قَالَ " ، قَالَ قُتَيْبَةُ فِي حَدِيثِهِ : " مُتَعَمِّدًا " ، وَقَالَ يَزِيدُ : " كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا قَالَ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) " وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ عَذَّبَهُ اللَّهُ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسلام کے سوا کسی اور ملت و مذہب کی جو کوئی جھوٹی قسم کھائے تو وہ ویسا ہی ہو گا جیسا اس نے کہا “ ، قتیبہ نے اپنی حدیث میں «متعمدا» کہا ہے ( یعنی دوسری ملت کی جان بوجھ کر قسم کھائے ) اور یزید نے «كاذبا» کہا ہے ( جو دوسری ملت کی جھوٹی قسم کھائے گا ) تو وہ ویسا ہی ہو گا جیسا اس نے کہا ۱؎ اور جو کوئی اپنے آپ کو کسی چیز سے قتل کر لے گا تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم کی آگ میں اسی چیز سے عذاب دے گا ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی کسی نے قسم کھائی کہ اگر یہ کام مجھ سے نہ ہوا تو میں یہودی یا نصرانی یا مذہب اسلام سے بیزار و متنفر ہوں اور وہ اپنی اس قسم میں پورا نہیں اترا بلکہ جھوٹا ثابت ہوا تو وہ اپنے کہے کے مطابق ہو گا، لیکن علماء کا کہنا ہے کہ یہ وعید اور دھمکی کے طور پر ہے، اگر دلی طور پر وہ اپنے ایمان سے مطمئن ہے تو اسے اپنے اس قول سے کچھ بھی نقصان پہنچنے والا نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 3802
أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو ، عَنْ يَحْيَى أَنَّهُ حَدَّثَهُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ثَابِتُ بْنُ الضَّحَّاكِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ سِوَى الْإِسْلَامِ كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا قَالَ : وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ عُذِّبَ بِهِ فِي الْآخِرَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے اسلام کے سوا کسی ملت و مذہب کی جھوٹی قسم کھائی تو وہ ویسا ہی ہے ، جیسا اس نے کہا ، اور جس نے خود کو کسی چیز سے مار ڈالا ( خودکشی کر لی ) تو اسے آخرت میں اسی چیز سے عذاب دیا جائے گا “ ۔