حدیث نمبر: 3567
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ الضَّحَّاكِ ، يَقُولُ : حَدَّثَتْنِي أُمُّ حَكِيمٍ بِنْتُ أَسِيدٍ ، عَنْ أُمِّهَا ، أَنَّ زَوْجَهَا تُوُفِّيَ وَكَانَتْ تَشْتَكِي عَيْنَهَا ، فَتَكْتَحِلُ الْجَلَاءَ ، فَأَرْسَلَتْ مَوْلَاةً لَهَا إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلَتْهَا عَنْ كُحْلِ الْجَلَاءِ ، فَقَالَتْ : لَا تَكْتَحِلُ إِلَّا مِنْ أَمْرٍ لَا بُدَّ مِنْهُ ، دَخَلَ عَلَيّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ ، وَقَدْ جَعَلْتُ عَلَى عَيْنِي صَبْرًا ، فَقَالَ : " مَا هَذَا يَا أُمَّ سَلَمَةَ ؟ " قُلْتُ : إِنَّمَا هُوَ صَبْرٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَيْسَ فِيهِ طِيبٌ ، قَالَ : " إِنَّهُ يَشُبُّ الْوَجْهَ ، فَلَا تَجْعَلِيهِ إِلَّا بِاللَّيْلِ ، وَلَا تَمْتَشِطِي بِالطِّيبِ وَلَا بِالْحِنَّاءِ ، فَإِنَّهُ خِضَابٌ " ، قُلْتُ : بِأَيِّ شَيْءٍ أَمْتَشِطُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " بِالسِّدْرِ تُغَلِّفِينَ بِهِ رَأْسَكِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام حکیم بنت اسید اپنی ماں سے روایت کرتی ہیں کہ` ان کے شوہر کا انتقال ہو گیا اور اس وقت ان کی آنکھوں میں تکلیف تھی ، چنانچہ وہ آنکھوں کو جلا پہنچانے والا ( یعنی اثمد کا ) سرمہ لگایا کرتی تھیں تو انہوں نے ( سوگ میں ہونے کے بعد ) اپنی ایک لونڈی کو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیج کر آنکھوں کو جلا اور ٹھنڈک پہنچانے والے سرمہ کے لگانے کے بارے میں پوچھا ؟ انہوں نے کہا : نہیں لگا سکتی مگر یہ کہ کوئی ایسی مجبوری اور ضرورت پیش آ جائے جس کو لگائے بغیر چارہ نہیں ( تو لگا سکتی ہے ) ۔ جب ( میرے شوہر ) ابوسلمہ کا انتقال ہوا اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے ، اس موقع پر میں اپنی آنکھ پر ایلوا لگائے ہوئے تھی ۔ آپ نے پوچھا : ام سلمہ ! یہ کیا چیز ہے ؟ میں نے کہا : اللہ کے رسول ! یہ صرف ایلوا ہے ! اس میں کسی طرح کی خوشبو نہیں ہے ، آپ نے فرمایا : ” ( خوشبو تو نہیں ہے لیکن ) یہ چہرے کو جوان ( اور تروتازہ کر دیتا ) ہے ۔ اسے نہ لگاؤ اور اگر لگانا ہی ( بہت ضروری ) ہو تو رات میں لگاؤ اور خوشبودار چیز اور مہندی لگا کر کنگھی نہ کیا کرو “ ۔ کیونکہ یہ خضاب ہے ۔ میں نے کہا : اللہ کے رسول ! میں کیا چیز لگا کر سر دھوؤں اور کنگھی کروں ! آپ نے فرمایا : ” بیری کے پتے کا لیپ لگا کر اپنے سر کو ڈھانپ رکھو “ ( اور دھو کر کنگھی کرو ) ۔