کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: بیوہ کی عدت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3530
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، عَنْ وَكِيعٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تَحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین ام حبیبہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے والی کسی بھی عورت کے لیے حلال نہیں ہے کہ شوہر کے سوا کسی بھی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے ، وہ شوہر کے انتقال پر چار مہینہ دس دن سوگ منائے گی “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الطلاق / حدیث: 3530
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الجنائز 30 (1280، 1281)، والطلاق 46 (5334)، 47 (5338)، 50 (5345)، صحیح مسلم/الطلاق 9 (1486)، سنن ابی داود/الطلاق 43 (2299)، سنن الترمذی/الطلاق 18 (1195)، (تحفة الأشراف: 15874)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطلاق 34 (2084)، موطا امام مالک/الطلاق 35 (101)، مسند احمد (6/325، 326، 426)، سنن الدارمی/الطلاق 12 (2330)، ویأتي عند المؤلف في 59، 63 (بأرقام3557، 3563) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3531
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، قُلْتُ : عَنْ أُمِّهَا ، قَالَ : نَعَمْ , إِنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ امْرَأَةٍ تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا ، فَخَافُوا عَلَى عَيْنِهَا ، أَتَكْتَحِلُ ؟ فَقَالَ : " قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَمْكُثُ فِي بَيْتِهَا فِي شَرِّ أَحْلَاسِهَا حَوْلًا ، ثُمَّ خَرَجَتْ ، فَلَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عورت کے متعلق پوچھا گیا جس کا شوہر مر گیا ہو اور سرمہ ( و کاجل ) نہ لگانے سے اس کی آنکھوں کے خراب ہو جانے کا خوف و خطرہ ہو تو کیا وہ سرمہ لگا سکتی ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” ( زمانہ جاہلیت میں ) تمہاری ہر عورت ( اپنے شوہر کے سوگ میں ) اپنے گھر میں انتہائی خراب ، گھٹیا و گندا کپڑا ( اونٹ کی کاٹھ کے نیچے کے کپڑے کی طرح ) پہن کر سال بھر گھر میں بیٹھی رہتی تھی ، پھر کہیں ( سال پورا ہونے پر ) نکلتی تھی ۔ اور اب چار مہینے دس دن بھی تم پر بھاری پڑ رہے ہیں ؟ “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اسلام کی رو سے وہ چار ماہ دس دن صبر نہیں کر سکتی؟ یہ مدت تو سال کے مقابلہ میں اللہ کی جانب سے ایک رحمت ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الطلاق / حدیث: 3531
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الطلاق 46 (5336)، 47 (5340)، والطب 18 (5706)، صحیح مسلم/الطلاق 9 (1488)، سنن ابی داود/الطلاق 43 (2299)، سنن الترمذی/الطلاق 18 (1197)، تحفة الأشراف: 18259)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 34 (2084)، موطا امام مالک/الطلاق 35 (103)، مسند احمد (6/291، 311، 326)، ویأتي عند المؤلف برقم: 3563، 3568-3571) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3532
أَخْبَرَنِي إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ قَيْسِ بْنِ قَهْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، وَجَدُّهُ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، وَأُمِّ حَبِيبَةَ ، قَالَتَا : جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا ، وَإِنِّي أَخَافُ عَلَى عَيْنِهَا ، أَفَأَكْحُلُهَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَجْلِسُ حَوْلًا ، وَإِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ، فَإِذَا كَانَ الْحَوْلُ خَرَجَتْ ، وَرَمَتْ وَرَاءَهَا بِبَعْرَةٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین ام سلمہ اور ام المؤمنین ام حبیبہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا : میری بیٹی کے شوہر ( یعنی میرے داماد ) کا انتقال ہو گیا ہے اور مجھے ( عدت میں بیٹھی ) بیٹی کی آنکھ کے خراب ہو جانے کا خوف ہے تو میں اس کی آنکھ میں سرمہ لگا سکتی ہوں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں ( سوگ منانے والی ) عورت زمانہ جاہلیت میں سال بھر بیٹھی رہتی تھی ، اور یہ تو چار مہینہ دس دن کی بات ہے ، جب سال پورا ہو جاتا تو وہ باہر نکلتی اور اپنے پیچھے مینگنی پھینکتی “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الطلاق / حدیث: 3532
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (صحیح)»
حدیث نمبر: 3533
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ نَافِعًا ، يَقُولُ : عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تَحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ ، فَإِنَّهَا تَحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین حفصہ بنت عمر رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانے کی اجازت نہیں ہے سوائے شوہر کے ، شوہر کے انتقال پر وہ چار ماہ دس دن سوگ منائے گی “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الطلاق / حدیث: 3533
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الطلاق 9 (1490)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 35 (2084)، (تحفة الأشراف: 15817)، موطا امام مالک/الطلاق 35 (104)، مسند احمد (6/184، 286، 287) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3534
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تَحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ أَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ ، فَإِنَّهَا تَحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا " ‏.‏
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بعض امہات المؤمنین اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو حلال نہیں ہے کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے سوائے شوہر کے ، شوہر کے مرنے پر وہ چار ماہ دس دن سوگ منائے گی “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الطلاق / حدیث: 3534
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18283) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3535
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا السَّهْمِيُّ يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بَكْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ أُمُّ سَلَمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , نَحْوَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´صفیہ بنت ابو عبید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیوی سے` اور بیوی سے مراد ام سلمہ رضی اللہ عنہا ہیں اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اوپر گزری ہوئی حدیث جیسی حدیث بیان کرتی ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الطلاق / حدیث: 3535
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (صحیح)»