کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: خلع کرانے والی عورت کی عدت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3527
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي شَاذَانُ بْنُ عُثْمَانَ أَخُو عَبْدَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ الرُّبَيِّعَ بِنْتَ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ ثَابِتَ بْنَ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ ضَرَبَ امْرَأَتَهُ فَكَسَرَ يَدَهَا وَهِيَ : جَمِيلَةُ بِنْتُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ ، فَأَتَى أَخُوهَا يَشْتَكِيهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ثَابِتٍ ، فَقَالَ لَهُ : " خُذْ الَّذِي لَهَا عَلَيْكَ ، وَخَلِّ سَبِيلَهَا " ، قَالَ : نَعَمْ ، " فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْ تَتَرَبَّصَ حَيْضَةً وَاحِدَةً ، فَتَلْحَقَ بِأَهْلِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو مارا اور ( ایسی مار ماری کہ ) اس کا ہاتھ ( ہی ) توڑ دیا ۔ وہ عورت عبداللہ بن ابی کی بیٹی جمیلہ تھی ، اس کا بھائی اس کی شکایت لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت بن قیس کو بلا بھیجا ( جب وہ آئے تو ) آپ نے ان سے فرمایا : ” تمہاری دی ہوئی جو چیز اس کے پاس ہے اسے لے لو اور اس کا راستہ چھوڑ دو “ ۱؎ انہوں نے کہا : اچھا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ( یعنی عورت جمیلہ کو ) حکم دیا کہ ایک حیض کی عدت گزار کر اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ ۲؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اسے طلاق دے کر اپنی زوجیت سے آزاد کر دو۔ ۲؎: یہ حدیث دلیل ہے ان لوگوں کے لیے جو کہتے ہیں کہ خلع فسخ ہے طلاق نہیں ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الطلاق / حدیث: 3527
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 15847) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3528
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمِّي ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاق ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ رُبَيِّعَ بِنْتِ مُعَوِّذٍ ، قَالَ : قُلْتُ لَهَا : حَدِّثِينِي حَدِيثَكِ ، قَالَتْ : اخْتَلَعْتُ مِنْ زَوْجِي ، ثُمَّ جِئْتُ عُثْمَانَ ، فَسَأَلْتُهُ مَاذَا عَلَيَّ مِنَ الْعِدَّةِ ، فَقَالَ : " لَا عِدَّةَ عَلَيْكِ إِلَّا أَنْ تَكُونِي حَدِيثَةَ عَهْدٍ بِهِ ، فَتَمْكُثِي حَتَّى تَحِيضِي حَيْضَةً ، قَالَ : وَأَنَا مُتَّبِعٌ فِي ذَلِكَ قَضَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرْيَمَ الْمَغَالِيَّةِ : كَانَتْ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ ، فَاخْتَلَعَتْ مِنْهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبادہ بن ولید ربیع بنت معوذ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ` میں نے ان سے کہا کہ آپ مجھ سے اپنا واقعہ ( حدیث ) بیان کیجئے انہوں نے کہا : میں نے اپنے شوہر سے خلع کیا اور عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر پوچھا کہ مجھے کتنی عدت گزارنی ہو گی ؟ انہوں نے کہا : تمہارے لیے عدت تو کوئی نہیں لیکن اگر انہیں دنوں ( یعنی طہر سے فراغت کے بعد ) اپنے شوہر کے پاس رہی ہو تو ایک حیض آنے تک رکی رہو ۔ انہوں نے کہا : میں اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فیصلے کی پیروی کر رہا ہوں جو آپ نے ثابت بن قیس کی بیوی مریم غالیہ کے خلع کرنے کے موقع پر صادر فرمایا تھا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: ثابت بن قیس کی بیوی کے مختلف نام لوگوں نے لکھے ہیں، انہیں میں سے ایک مریم غالیہ بھی ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الطلاق / حدیث: 3528
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الطلاق23 (2058)، (تحفة الأشراف: 1536) (حسن صحیح)»