کتب حدیث ›
سنن نسائي › ابواب
› باب: میاں بیوی میں سے کوئی ایک اسلام قبول کر لے تو نابالغ بیٹے کو کسی ایک کے ساتھ ہو جانے کا اختیار دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 3525
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُثْمَانَ الْبَتِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سَلَمَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ , أَنَّهُ أَسْلَمَ وَأَبَتِ امْرَأَتُهُ أَنْ تُسْلِمَ ، فَجَاءَ ابْنٌ لَهُمَا صَغِيرٌ لَمْ يَبْلُغْ الْحُلُمَ ، فَأَجْلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَبَ هَا هُنَا وَالْأُمَّ هَا هُنَا ، ثُمَّ خَيَّرَهُ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اهْدِهِ ، فَذَهَبَ إِلَى أَبِيهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سلمہ انصاری اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ` وہ اسلام لے آئے اور ان کی بیوی نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا ، ان دونوں کا ایک چھوٹا بیٹا جو ابھی بالغ نہیں ہوا تھا آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بٹھا لیا ، باپ بھی وہیں تھا اور ماں بھی وہیں تھی ۔ آپ نے اسے اختیار دیا ( ماں باپ میں سے جس کے ساتھ بھی تو ہونا چاہے اس کے ساتھ ہو جا ) اور ساتھ ہی کہا ( یعنی دعا کی ) اے اللہ اسے ہدایت دے تو وہ باپ کی طرف ہو لیا ۔
حدیث نمبر: 3526
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي زِيَادٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أُسَامَةَ ، عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ ، قَالَ : بَيْنَا أَنَا عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ : " إِنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي إِنَّ زَوْجِي يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِابْنِي ، وَقَدْ نَفَعَنِي وَسَقَانِي مِنْ بِئْرِ أَبِي عِنَبَةَ ، فَجَاءَ زَوْجُهَا ، وَقَالَ : مَنْ يُخَاصِمُنِي فِي ابْنِي ، فَقَالَ : " يَا غُلَامُ ، هَذَا أَبُوكَ وَهَذِهِ أُمُّكَ ، فَخُذْ بِيَدِ أَيِّهِمَا شِئْتَ ، فَأَخَذَ بِيَدِ أُمِّهِ ، فَانْطَلَقَتْ بِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابومیمونہ کہتے ہیں کہ` ہم ایک دن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو انہوں نے بتایا کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا : میرے ماں باپ آپ پر قربان ! میرا شوہر میرا بیٹا مجھ سے چھین لینا چاہتا ہے جب کہ مجھے اس سے فائدہ ( و آرام ) ہے ، وہ مجھے عنبہ کے کنویں کا پانی ( لا کر ) پلاتا ہے ، ( اتنے میں ) اس کا شوہر بھی آ گیا اور اس نے کہا : کون میرے بیٹے کے معاملے میں مجھ سے جھگڑا ( اور اختلاف ) کرتا ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس کے بیٹے سے کہا : ) اے لڑکے ! یہ تمہارا باپ ہے اور یہ تمہاری ماں ہے ، تو تم جس کے ساتھ رہنا چاہو اس کا ہاتھ پکڑ لو چنانچہ اس نے اپنی ماں کا ہاتھ تھام لیا اور وہ اسے اپنے ساتھ لے گئی ۔