کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: ظہار کا بیان۔
حدیث نمبر: 3487
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ ظَاهَرَ مِنِ امْرَأَتِهِ ، فَوَقَعَ عَلَيْهَا ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي ظَاهَرْتُ مِنَ امْرَأَتِي ، فَوَقَعْتُ قَبْلَ أَنْ أُكَفِّرَ ، قَالَ : " وَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ يَرْحَمُكَ اللَّهُ ؟ " قَالَ : رَأَيْتُ خَلْخَالَهَا فِي ضَوْءِ الْقَمَرِ ، فَقَالَ : " لَا تَقْرَبْهَا حَتَّى تَفْعَلَ مَا أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جس نے اپنی بیوی سے ظہار کیا تھا پھر اس سے صحبت کر بیٹھا ، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ میں نے اپنی بیوی سے ظہار کیا تھا لیکن میں کفارہ ادا کیے بغیر اس سے جماع کر بیٹھا ۔ آپ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے ، ایسا کر گزرنے پر تمہیں کس چیز نے مجبور کیا ہے “ ؟ اس نے کہا : چاند کی چاندنی میں میں نے اس کی پازیب دیکھی ( تو مجھ سے رہا نہ گیا اور میں اس سے جماع کر بیٹھا ) آپ نے فرمایا : ” ( اچھا اب ) اس کے قریب نہ جانا جب تک کہ وہ نہ کر لو جس کا اللہ نے ( ایسے موقع پر کرنے کا ) حکم دیا ہے ( یعنی کفارہ ادا کر دو ) “ ۲؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی مرد کا اپنی بیوی سے یہ کہنا کہ تو میرے لیے میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے۔ ۲؎: ظہار کا کفارہ یہ ہے: ایک مؤمن غلام آزاد کرنا اگر اس کی طاقت نہ ہو تو مسلسل دو ماہ کے روزے رکھنا۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الطلاق / حدیث: 3487
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الطلاق 17 (2225)، سنن الترمذی/الطلاق 19 (1199)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 26 (2065)، تحفة الأشراف: 6036) (حسن)»
حدیث نمبر: 3488
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : تَظَاهَرَ رَجُلٌ مِنِ امْرَأَتِهِ ، فَأَصَابَهَا قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ ؟ " قَالَ : رَحِمَكَ اللَّهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَأَيْتُ خَلْخَالَهَا أَوْ سَاقَيْهَا فِي ضَوْءِ الْقَمَرِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَاعْتَزِلْهَا حَتَّى تَفْعَلَ مَا أَمَرَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عکرمہ کہتے ہیں کہ` ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کیا ( یعنی اپنی بیوی کو اپنی ماں کی طرح کہہ کر حرام کر لیا ) پھر کفارہ ادا کرنے سے پہلے اس سے صحبت کر لی ، پھر جا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا ( کہ ایسا ایسا ہو گیا ہے ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” کس چیز نے تمہیں اس قدر بے قابو کر دیا کہ تم اس کام کے کرنے پر مجبور ہو گئے “ ، اس نے کہا : اللہ کی رحمتیں نازل ہوں آپ پر اللہ کے رسول ! میں نے چاند کی چاندنی میں اس کی پازیب دیکھ لی ( راوی کو شبہ ہو گیا کہ یہ کہا یا یہ کہا ) کہ میں نے چاند کی چاندنی میں اس کی ( چمکتی ہوئی ) پنڈلیاں دیکھ لیں ( تو مجھ سے رہا نہ گیا ) ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس سے دور رہو جب تک کہ وہ نہ کر لو جس کا اللہ عزوجل نے تمہیں کرنے کا حکم دیا ہے “ ( یعنی کفارہ ادا کر دو ) ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الطلاق / حدیث: 3488
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر ماقبلہ (صحیح)»
حدیث نمبر: 3489
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا الْمُعْتَمِرُ . ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَكَمَ بْنَ أَبَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : أَتَى رَجُلٌ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنَّهُ ظَاهَرَ مِنِ امْرَأَتِهِ ، ثُمَّ غَشِيَهَا قَبْلَ أَنْ يَفْعَلَ مَا عَلَيْهِ ، قَالَ : " مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ ؟ " قَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، رَأَيْتُ بَيَاضَ سَاقَيْهَا فِي الْقَمَرِ ، قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَاعْتَزِلْ حَتَّى تَقْضِيَ مَا عَلَيْكَ " ، وَقَالَ إِسْحَاق فِي حَدِيثِهِ : فَاعْتَزِلْهَا حَتَّى تَقْضِيَ مَا عَلَيْكَ ، وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : الْمُرْسَلُ أَوْلَى بِالصَّوَابِ مِنَ الْمُسْنَدِ ، وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عکرمہ کہتے ہیں کہ` ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا : اللہ کے نبی ! میں نے اپنی بیوی سے ظہار کیا اور ظہار کا کفارہ ادا کرنے سے پہلے ہی اسے چھاپ لیا ۔ آپ نے فرمایا : ” کس چیز نے تمہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا ؟ “ اس نے کہا : اللہ کے نبی ! میں نے چاندنی رات میں اس کی گوری گوری پنڈلیاں دیکھیں ( تو بے قابو ہو گیا ) ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس سے الگ رہو جب تک کہ تم ادا نہ کر دو وہ چیز جو تم پر عائد ہوتی ہے ( یعنی کفارہ دے دو ) “ ۔ اسحاق بن راہویہ نے اپنی حدیث میں «فاعتزل» کے بجائے «فاعتزلہا» بیان کیا ہے اور یہ «فاعتزل» لفظ محمد کی روایت میں ہے ۔ امام ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : یہ مرسل حدیث مسند کے مقابل میں زیادہ صحیح اور اولیٰ ہے واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی یہ حدیث مسنداً ابن عباس رضی الله عنہما سے مروی ہے اور مرسلاً عکرمہ سے اور مسند کی بنسبت مرسل روایت صحیح ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الطلاق / حدیث: 3489
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 3487 (حسن)»
حدیث نمبر: 3490
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ , عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَسِعَ سَمْعُهُ الْأَصْوَاتَ ، لَقَدْ جَاءَتْ خَوْلَةُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَشْكُو زَوْجَهَا ، فَكَانَ يَخْفَى عَلَيَّ كَلَامُهَا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا سورة المجادلة آية 1 " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` تمام تعریفیں اللہ کے لیے سزاوار ہیں جو ہر آواز سنتا ہے ، خولہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اپنے شوہر کی شکایت کرنے لگیں ( کہ انہوں نے ان سے ظہار کر لیا ہے ) ان کی باتیں مجھے سنائی نہ پڑ رہی تھیں ، تو اللہ عزوجل نے «قد سمع اللہ قول التي تجادلك في زوجها وتشتكي إلى اللہ واللہ يسمع تحاوركما» اتاری ( جس سے ہم سبھی کو معلوم ہو گیا کہ کیا باتیں ہو رہی تھیں ) ۔
وضاحت:
۱؎: یقیناً اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی بات سنی جو تجھ سے اپنے شوہر کے بارے میں تکرار کر رہی تھی اور اللہ کے آگے شکایت کر رہی تھی، اللہ تعالیٰ تم دونوں کے سوال و جواب سن رہا تھا، بیشک اللہ تعالیٰ سننے دیکھنے والا ہے (المجادلہ: ۱)۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الطلاق / حدیث: 3490
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح البخاری/التوحید 9 (7385) (تعلیقاً)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 13 (188)، الطلاق 25 (2063)، (تحفة الأشراف: 16332)، مسند احمد (6/46) (صحیح)»