کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: شوہر غلام ہو اور لونڈی بیوی آزاد کر دی جائے تو اسے حق خیار حاصل ہو گا۔
حدیث نمبر: 3481
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : كَاتَبَتْ بَرِيرَةُ عَلَى نَفْسِهَا بِتِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ سَنَةٍ بِأُوقِيَّةٍ ، فَأَتَتْ عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا ، فَقَالَتْ : لَا ، إِلَّا أَنْ يَشَاءُوا أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً وَيَكُونُ الْوَلَاءُ لِي ، فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ فَكَلَّمَتْ فِي ذَلِكَ أَهْلَهَا ، فَأَبَوْا عَلَيْهَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْوَلَاءُ لَهُمْ ، فَجَاءَتْ إِلَى عَائِشَةَ ، وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ ، فَقَالَتْ لَهَا : مَا قَالَ أَهْلُهَا ، فَقَالَتْ : لَا ، هَا اللَّهِ إِذًا إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْوَلَاءُ لِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا هَذَا ؟ " فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ بَرِيرَةَ أَتَتْنِي تَسْتَعِينُ بِي عَلَى كِتَابَتِهَا ، فَقُلْتُ : لَا ، إِلَّا أَنْ يَشَاءُوا أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً ، وَيَكُونُ الْوَلَاءُ لِي ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِأَهْلِهَا ، فَأَبَوْا عَلَيْهَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْوَلَاءُ لَهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ابْتَاعِيهَا ، وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلَاءَ ، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ " ، ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ؟ يَقُولُونَ : أَعْتِقْ فُلَانًا وَالْوَلَاءُ لِي ، كِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ ، وَكُلُّ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ ، وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ ، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَوْجِهَا ، وَكَانَ عَبْدًا ، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا " ، قَالَ عُرْوَةُ : فَلَوْ كَانَ حُرًّا ، مَا خَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` بریرہ رضی اللہ عنہا نے اپنی آزادی کے لیے نو اوقیہ ۱؎ پر مکاتبت کی اور ہر سال ایک اوقیہ ادا کرنے کی شرط ٹھہرائی اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے مدد حاصل کرنے کے لیے ان کے پاس آئی ۔ انہوں نے کہا : میں اس طرح مدد تو نہیں کرتی لیکن اگر وہ اس پر راضی ہوں کہ میں انہیں ایک ہی دفعہ میں پوری رقم گن دوں اور ولاء ( وراثت ) میرا حق ہو ( تو میں ایسا کر سکتی ہوں ) ، بریرہ اپنے لوگوں کے پاس گئی اور ان لوگوں سے اس معاملے میں بات کی ، تو انہوں نے بغیر ولاء ( وراثت ) کے ان کی بات ماننے سے انکار کر دیا ( کہا ولاء ( میراث ) ہم لیں گے ) تو وہ لوٹ کر عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی ، اور اسی موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے ، بریرہ رضی اللہ عنہا نے اپنے مالک کے جواب سے انہیں ( عائشہ کو ) آگاہ کیا ، انہوں نے کہا : نہ قسم اللہ کی جب تک ولاء ( میراث ) مجھے نہ ملے گی ( میں اکٹھی رقم نہ دوں گی ) ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : کیا قصہ ہے ؟ انہوں کہا : اللہ کے رسول ! ( بات یہ ہے کہ ) بریرہ اپنی مکاتبت رضی اللہ عنہا پر مجھ سے امداد طلب کرنے آئی تو میں نے اس سے کہا میں یوں تو مدد نہیں کرتی مگر ہاں اگر وہ ولاء ( میراث ) کو میرا حق تسلیم کریں تو میں ساری رقم انہیں یکبارگی گن دیتی ہوں ، اس بات کا ذکر اس نے اپنے مالک سے کیا تو انہوں نے کہا : نہیں ، ولاء ( میراث ) ہم لیں گے ( تب ہی ہم اس پر راضی ہوں گے ) ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( عائشہ سے ) کہا : ” تم اسے خرید لو اور ان کے لیے ولاء ( میراث ) کی شرط مان لو ، ولاء اس شخص کا حق ہے جو اسے آزاد کرے ( اس طرح جب تم خرید کر آزاد کر دو گی تو حق ولاء ( میراث ) تم کو مل جائے گا ) “ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے لوگوں کو خطاب کیا ( سب سے پہلے ) اللہ کی حمد و ثنا بیان کی ، پھر فرمایا : ” لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ ( قرآن ) میں نہیں ہیں ، کہتے ہیں : ( ہم سے خرید کر ) آزاد تم کرو لیکن ولاء ( وراثت ) ہم لیں گے ۔ اللہ عزوجل کی کتاب بر حق و صحیح تر ہے اور اللہ کی شرط مضبوط ، ٹھوس اور قابل اعتماد ہے اور ہر وہ شرط جس کا کتاب اللہ میں وجود و ثبوت نہیں ہے باطل و بے اثر ہے ، اگرچہ وہ ایک نہیں سو شرطیں ہوں “ ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے شوہر کے ساتھ رہنے یا علیحدہ ہو جانے کا اختیار دیا ، اس کا شوہر غلام تھا تو اس نے اپنے آپ کو علیحدہ کر لیا ۔ عروہ کہتے ہیں : اگر اس کا شوہر آزاد شخص ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ( علیحدہ ہو جانے کا ) اختیار نہ دیتے ۔
وضاحت:
۱؎: ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الطلاق / حدیث: 3481
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/العتق 2 (1504)، سنن ابی داود/الطلاق 19 (2233) مختصراً، سنن الترمذی/الرضاع 7 (1154)، (تحفة الأشراف: 16770)، مسند احمد (6/170) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3482
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر غلام شخص تھا ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الطلاق / حدیث: 3482
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/العتق 2 (1504)، (تحفة الأشراف: 17354)، مسند احمد (6/269) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3483
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّهَا اشْتَرَتْ بَرِيرَةَ مِنْ أُنَاسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ ، فَاشْتَرَطُوا الْوَلَاءَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْوَلَاءُ لِمَنْ وَلِيَ النِّعْمَةَ ، وَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، وَكَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا ، وَأَهْدَتْ لِعَائِشَةَ لَحْمًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ وَضَعْتُمْ لَنَا مِنْ هَذَا اللَّحْمِ ؟ " قَالَتْ عَائِشَةُ : تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ ، فَقَالَ : " هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ ، وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ` انہوں نے بریرہ کو کچھ انصاری لوگوں سے خریدا جنہوں نے ( اپنے لیے ) ولاء ( میراث ) کی شرط رکھی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ولاء ( میراث ) کا حقدار ولی نعمت ( آزاد کرانے والا ) ہوتا ہے “ ۱؎ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ( یعنی بریرہ کو ) اختیار دیا ، اس کا شوہر غلام تھا ( اس نے اس حق کا اپنے حق میں استعمال کیا اور شوہر کو چھوڑ دیا ) ، اس نے ( بریرہ نے ) عائشہ رضی اللہ عنہا کو گوشت کا ہدیہ بھیجا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس گوشت میں ہمارے لیے بھی تو حصہ رکھنا تھا “ ، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : وہ گوشت بریرہ کے پاس صدقہ آیا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ بریرہ کے لیے صدقہ تھا لیکن ہمارے لیے ( صدقہ نہیں ) ہدیہ ہے “ ۲؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی جو خریدے اور خرید کر آزاد کرے۔ ۲؎: نبی اور اس کے اہل بیت کے لیے صدقہ کھانا حرام ہے، ہدیہ کھانا حرام نہیں ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الطلاق / حدیث: 3483
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/العتق 2 (1504)، سنن ابی داود/الطلاق 19 (2234)، مختصراً، (تحفة الأشراف: 17490) (حسن صحیح)»
حدیث نمبر: 3484
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ الْكَرْمَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَ : وَكَانَ وَصِيَّ أَبِيهِ ، قَالَ : وَفَرِقْتُ أَنْ أَقُولَ سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِيكَ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَرِيرَةَ ، وَأَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِيَهَا ، وَاشْتُرِطَ الْوَلَاءُ لِأَهْلِهَا ، فَقَالَ : " اشْتَرِيهَا ، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ " ، قَالَ : وَخُيِّرَتْ وَكَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا ، ثُمَّ قَالَ : بَعْدَ ذَلِكَ مَا أَدْرِي ؟ وَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمٍ ، فَقَالُوا : هَذَا مِمَّا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ ، قَالَ : " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بریرہ رضی اللہ عنہا کے معاملہ میں آپ کی رائے پوچھی ، میرا ارادہ اسے خرید لینے کا ہے ، لیکن اس کے مالکان کی طرف سے ( اپنے لیے ) ولاء ( میراث ) کی شرط لگائی گئی ہے ( پھر میں کیا کروں ؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( اس شرط کے ساتھ بھی ) تم اسے خرید لو ( یہ شرط لغو و باطل ہے ) ولاء ( میراث ) اس شخص کا حق ہے جو آزاد کرے “ ۔ راوی کہتے ہیں : ( عائشہ رضی اللہ عنہا نے خرید کر آزاد کر دیا ) اور اسے اختیار دیا گیا ( شوہر کے ساتھ رہنے یا اسے چھوڑ دینے کا ) اس کا شوہر غلام تھا ۔ یہ کہنے کے بعد راوی پھر کہتے ہیں : میں نہیں جانتا ( کہ اس کا شوہر واقعی غلام تھا یا آزاد تھا ) ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوشت پیش کیا گیا اور لوگوں نے بتایا کہ بریرہ کے پاس صدقہ میں آئے ہوئے گوشت میں سے یہ ہے ۔ آپ نے فرمایا : ” وہ بریرہ کے لیے صدقہ اور ہمارے لیے ہدیہ و تحفہ ہے “ ( اس لیے ہم کھا سکتے ہیں ) ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الطلاق / حدیث: 3484
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الہبة 13 (2587)، صحیح مسلم/الزکاة 52 (1075)، العتق 2 (1504)، (تحفة الأشراف: 17491)، مسند احمد (6/172)، ویأتي عند المؤلف برقم: 4647) (صحیح)»