حدیث نمبر: 3476
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَوْهَبٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : كَانَ لِعَائِشَةَ غُلَامٌ وَجَارِيَةٌ ، قَالَتْ : فَأَرَدْتُ أَنْ أُعْتِقَهُمَا ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " ابْدَئِي بِالْغُلَامِ قَبْلَ الْجَارِيَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´قاسم بن محمد کہتے ہیں کہ` ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک غلام اور ایک لونڈی تھی ( یہ دونوں میاں بیوی تھے ) میرا ارادہ ہوا کہ ان دونوں کو میں آزاد کر دوں ۔ میں نے اس ارادہ کا اظہار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دیا تو آپ نے فرمایا : ” لونڈی سے پہلے غلام کو آزاد کرو ( پھر لونڈی کو ) “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: غالباً ایسا عورت کے مقابلے میں مرد کی بزرگی و بڑائی کے باعث کہا گیا۔