کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: کن شوہروں کی طلاق واقع نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 3462
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثٍ : عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ ، وَعَنِ الصَّغِيرِ حَتَّى يَكْبُرَ ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَعْقِلَ أَوْ يُفِيقَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین طرح کے لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے ۱؎ ایک تو سونے والے سے یہاں تک کہ وہ جاگے ۲؎ ، دوسرے نابالغ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے ، تیسرے دیوانے سے یہاں تک کہ وہ عقل و ہوش میں آ جائے “ ۔
وضاحت:
۱؎: اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ ان حالات میں ان پر گناہ کا حکم نہیں لگتا۔ ۲؎: یعنی سونے کی حالت میں جو کچھ کہہ دے اس کا اعتبار نہ ہو گا۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الطلاق / حدیث: 3462
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (4398) ابن ماجه (2041) إبراهيم النخعي مدلس وعنعن،ولم أجد تصريح سماعه. وانظر سنن أبى داود (4399.4400 بتحقيقي). انوار الصحيفه، صفحه نمبر 347
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الحدود 16 (4398)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 15 (2041)، (تحفة الأشراف: 15935)، مسند احمد (6/100، 101، 144)، سنن الدارمی/الحدود 1 (2343) (صحیح)»