حدیث نمبر: 3450
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ وَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلًا ، فَتَوَاصَيْتُ وَحَفْصَةُ أَيَّتُنَا ، مَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلْتَقُلْ : إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ ، فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَيْهِمَا ، فَقَالَتْ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا عِنْدَ زَيْنَبَ ، وَقَالَ : لَنْ أَعُودَ لَهُ ، فَنَزَلَ : يَأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ سورة التحريم آية 1 , إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ سورة التحريم آية 4, لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا سورة التحريم آية 3 " ، لِقَوْلِهِ : بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا , كُلُّهُ فِي حَدِيثِ عَطَاءٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زینب رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرتے اور ان کے پاس شہد پی کر آتے تو ہم نے اور حفصہ نے آپس میں صلاح و مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں وہ کہے کہ ( کیا بات ہے ) مجھے آپ کے منہ سے مغافیر ۱؎ کی بو آتی ہے ، آپ ہم میں سے ایک کے پاس آئے تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی بات کہی ۔ آپ نے کہا : ” میں نے تو کچھ کھایا پیا نہیں بس زینب کے پاس صرف شہد پیا ہے ( اور جب تم ایسا کہہ رہی ہو کہ اس سے مغافیر کی بو آتی ہے ) تو آئندہ نہ پیوں گا “ ۔ چنانچہ عائشہ اور حفصہ کی وجہ سے یہ آیت : «يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك» ” اے نبی جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حلال کر دیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں “ ( التحریم : ۱ ) اور «إن تتوبا إلى اللہ» ” ( اے نبی کی دونوں بیویو ! ) اگر تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کر لو ( تو بہت بہتر ہے ) “ ۔ ( التحریم : ۴ ) نازل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول : میں نے تو شہد پیا ہے کی وجہ سے یہ آیت : «وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا» ” اور یاد کر جب نبی نے اپنی بعض عورتوں سے ایک پوشیدہ بات کہی “ ( التحریم : ۳ ) نازل ہوئی ہے ، اور یہ ساری تفصیل عطا کی حدیث میں موجود ہے ۔
وضاحت:
۱؎: مغفر ایک قسم کی گوند ہے جو بعض درختوں سے نکلتی ہے۔