کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: شوہر دوسرے سے بیوی کو طلاق بھیج دے اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 3447
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي الْجَهْمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ ، تَقُولُ : أَرْسَلَ إِلَيَّ زَوْجِي بِطَلَاقِي ، فَشَدَدْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي ، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " كَمْ طَلَّقَكِ ؟ " فَقُلْتُ : ثَلَاثًا ، قَالَ : " لَيْسَ لَكِ نَفَقَةٌ ، وَاعْتَدِّي فِي بَيْتِ ابْنِ عَمِّكِ ، ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ ، فَإِنَّهُ ضَرِيرُ الْبَصَرِ ، تُلْقِينَ ثِيَابَكِ عِنْدَهُ ، فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُكِ ، فَآذِنِينِي " ، مُخْتَصَرٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` میرے شوہر نے مجھے طلاق کہلا بھیجی تو میں اپنے کپڑے اپنے آپ پر لپیٹ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( نفقہ و سکنی کا مطالبہ لے کر ) پہنچی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انہوں نے تمہیں کتنی طلاقیں دی ہیں ؟ “ میں نے کہا : تین ، آپ نے فرمایا : ” پھر تو تمہیں نفقہ نہیں ملے گا تم اپنی عدت کے دن اپنے چچا کے بیٹے ابن ام مکتوم کے گھر میں پورے کرو کیونکہ وہ نابینا ہیں ، تم ان کے پاس رہ کر بھی اپنے کپڑے اتار سکتی ہو پھر جب تمہاری عدت کے دن پورے ہو جائیں تو مجھے خبر دو “ ، یہ حدیث طویل ہے ، یہاں مختصر بیان ہوئی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الطلاق / حدیث: 3447
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الطلاق 6 (1480)، سنن الترمذی/النکاح 38 (1135)، سنن ابن ماجہ/الطلاق10 (2035)، (تحفة الأشراف: 18037)، مسند احمد (6/412411، 413، ویأتي برقم: 3581 (صحیح)»
حدیث نمبر: 3448
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ تَمِيمٍ مَوْلَى فَاطِمَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ , نَحْوَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مجاہد فاطمہ ( فاطمہ بنت قیس ) کے غلام تمیم سے` اور وہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے اسی کے طرح جیسی کہ اوپر روایت گزری ہے روایت کرتے ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الطلاق / حدیث: 3448
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18020)، مسند احمد (6/411) (صحیح)»