کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: شادی میں زرد (پیلے) رنگ کے استعمال کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3375
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ , أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ جَاءَ وَعَلَيْهِ رَدْعٌ مِنْ زَعْفَرَانٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَهْيَمْ ؟ " قَالَ : تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً ، قَالَ : وَمَا أَصْدَقْتَ ؟ قَالَ : وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ ، قَالَ : " أَوْلِمْ ، وَلَوْ بِشَاةٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ آئے اور ان پر زعفران کے رنگ کا اثر تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : ” یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : میں نے ایک عورت سے شادی کی ہے ( یہ اسی کا اثر و نشان ہے ) ۔ آپ نے پوچھا ؟ مہر کتنا دیا ؟ کہا : کھجور کی گٹھلی کے وزن کے برابر سونا ، آپ نے فرمایا : ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی کیوں نہ ہو ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب النكاح / حدیث: 3375
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «سنن ابی داود/النکاح 30 (2109)، (تحفة الأشراف: 339) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3376
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَزِيرِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ ، كَأَنَّهُ يَعْنِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ أَثَرَ صُفْرَةٍ ، فَقَالَ : " مَهْيَمْ ؟ " قَالَ : تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ : " أَوْلِمْ ، وَلَوْ بِشَاةٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر زردی کا اثر دیکھا ( مجھ سے مراد عبدالرحمٰن بن عوف ہیں ) پوچھا یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کی ہے ( یہ اسی کا نشان ہے ) ، آپ نے فرمایا : ” ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہو “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب النكاح / حدیث: 3376
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 798)، ویأتي عند المؤلف برقم: 3390 (صحیح)»