کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: عورت کا اپنے آپ کو کسی مرد کے لیے بغیر مہر کے ہبہ کر دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3361
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ وَهَبْتُ نَفْسِي لَكَ ، فَقَامَتْ قِيَامًا طَوِيلًا ، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : زَوِّجْنِيهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ عِنْدَكَ شَيْءٌ " قَالَ : مَا أَجِدُ شَيْئًا ، قَالَ : " الْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ " ، فَالْتَمَسَ ، فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ " قَالَ : نَعَمْ ، سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا لِسُوَرٍ سَمَّاهَا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ زَوَّجْتُكَهَا عَلَى مَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سہل بن سعد رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ سے کہنے لگی : اللہ کے رسول ! میں نے اپنی ذات کو آپ کے لیے ہبہ کر دیا ہے ( یہ کہہ کر ) وہ کافی دیر کھڑی رہی تو ایک شخص اٹھا اور آپ سے عرض کیا ( اللہ کے رسول ! ) اگر آپ کو اسے رکھنے کی ضرورت نہ ہو تو آپ میری شادی اس سے کرا دیجئیے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تیرے پاس ( بطور مہر دینے کے لیے ) کچھ ہے ؟ “ اس نے کہا : میرے پاس کچھ نہیں ہے ، آپ نے فرمایا : ” جاؤ ڈھونڈو اگرچہ لوہے کی انگوٹھی ہو ( پاؤ تو اسے لے آؤ ) ، اس نے ( جا کر ) ڈھونڈا ، اسے کچھ بھی نہ ملا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا : کیا تمہارے پاس قرآن کا بھی کچھ علم ہے ؟ اس نے کہا : مجھے فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں ، اس نے ان سورتوں کا نام لیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( جاؤ ) میں نے تمہارا نکاح اس عورت کے ساتھ اس قرآن کے عوض کر دیا جو تمہیں یاد ہے “ ( تم اسے قرآن پڑھا دو اور یاد کرا دو ) ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب النكاح / حدیث: 3361
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الوکالة 9 (2310)، النکاح 40 (5135)، سنن ابی داود/النکاح 31 (2111)، سنن الترمذی/النکاح 23 (1114)، (تحفة الأشراف: 4742)، موطا امام مالک/النکاح 3 (8)، مسند احمد (5/336) (صحیح)»