کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: قرآن کی کچھ سورتیں سکھا دینے کے عوض شادی کر دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3341
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ , أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُ لِأَهَبَ نَفْسِي لَكَ ، فَنَظَرَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَعَّدَ النَّظَرَ إِلَيْهَا وَصَوَّبَهُ ، ثُمَّ طَأْطَأَ رَأْسَهُ ، فَلَمَّا رَأَتِ الْمَرْأَةُ أَنَّهُ لَمْ يَقْضِ فِيهَا شَيْئًا ، جَلَسَتْ ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : أَيْ رَسُولَ اللَّهِ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ فَزَوِّجْنِيهَا قَالَ : " هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ " ؟ فَقَالَ : لَا ، وَاللَّهِ مَا وَجَدْتُ شَيْئًا ، فَقَالَ : " انْظُرْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ " فَذَهَبَ ، ثُمَّ رَجَعَ ، فَقَالَ : لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ ، وَلَكِنْ هَذَا إِزَارِي , قَالَ سَهْلٌ : مَا لَهُ رِدَاءٌ فَلَهَا نِصْفُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا تَصْنَعُ بِإِزَارِكَ إِنْ لَبِسْتَهُ ؟ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا مِنْهُ شَيْءٌ وَإِنْ لَبِسَتْهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ مِنْهُ شَيْءٌ " فَجَلَسَ الرَّجُلُ حَتَّى طَالَ مَجْلِسُهُ ، ثُمَّ قَامَ ، فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مُوَلِّيًا ، فَأَمَرَ بِهِ ، فَدُعِيَ ، فَلَمَّا جَاءَ قَالَ : " مَاذَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ، " قَالَ : مَعِي سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا عَدَّدَهَا فَقَالَ : " هَلْ تَقْرَؤُهُنَّ عَنْ ظَهْرِ قَلْبٍ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " مَلَّكْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سہل بن سعد رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں آئی ہوں کہ اپنے آپ کو آپ کے حوالے کر دوں ، ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور نیچے سے اوپر تک دھیان سے دیکھا ۔ پھر آپ نے اپنا سر جھکا لیا ( غور فرمانے لگے کہ کیا کریں ) ، عورت نے جب دیکھا کہ آپ نے اس کے متعلق ( بروقت ) کچھ نہیں فیصلہ فرمایا تو وہ ( انتظار میں ) بیٹھ گئی ، اتنے میں آپ کے ایک صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! اگر آپ اپنے لیے اس عورت کی ضرورت نہیں پاتے تو آپ اس عورت سے میری شادی کر دیجئیے ۔ آپ نے فرمایا : ” کیا تمہارے پاس ( بطور مہر دینے کے لیے ) کوئی چیز ہے ؟ “ اس نے کہا نہیں ، قسم اللہ کی ! میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے ۔ آپ نے فرمایا : ” دیکھو ( تلاش کرو ) لوہے کی انگوٹھی ۱؎ ہی مل جائے تو لے کر آؤ “ ، تو وہ آدمی ( تلاش میں ) نکلا ، پھر لوٹ کر آیا اور کہا : اللہ کے رسول ! قسم اللہ کی ! کوئی چیز نہیں ملی حتیٰ کہ لوہے کہ انگوٹھی بھی نہیں ملی ، میرے پاس بس میرا یہی تہبند ہے ، میں آدھی تہبند اس کو دے سکتا ہوں ، سہل ( جو اس حدیث کے راوی ہیں ) کہتے ہیں : اس کے پاس چادر نہیں تھی ) ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے تہبند سے کیا کر سکتے ہو ؟ تم پہنو گے تو وہ نہیں پہن سکتی اور وہ پہنے گی تو تم نہیں پہن سکتے “ ، وہ آدمی بیٹھ گیا اور دیر تک بیٹھا رہا ، پھر ( مایوس ہو کر ) اٹھ کر چلا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیٹھ پھیر کر جاتے ہوئے دیکھا تو اسے حکم دے کر بلا لیا ، جب وہ آیا تو آپ نے اس سے پوچھا : ” تمہیں قرآن کتنا یاد ہے ؟ “ انہوں نے کہا : فلاں فلاں سورت ، اس نے گن کر بتایا ۔ آپ نے کہا : ” کیا تم اسے زبانی ( روانی سے ) پڑھ سکتے ہو “ ، اس نے کہا : جی ہاں ، آپ نے فرمایا : ” ( جاؤ ) جو تمہیں قرآن یاد ہے اسے یاد کرا دو اس کے عوض میں نے تمہیں اس کا مالک بنا دیا “ ( یعنی میں نے اس سے تمہاری شادی کر دی ) ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مہر کے لیے کوئی حد مقرر نہیں ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب النكاح / حدیث: 3341
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/فضائل القرآن 22 (5030)، صحیح مسلم/النکاح 13 (1425)، (تحفة الأشراف: 4778) (صحیح)»