حدیث نمبر: 3149
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يُكْلَمُ أَحَدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ ، إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَجُرْحُهُ يَثْعَبُ دَمًا ، اللَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ ، وَالرِّيحُ رِيحُ الْمِسْكِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کوئی اللہ کے راستے میں گھائل ہو گا ، اور اللہ کو خوب معلوم ہے کہ اس کے راستے میں کون زخمی ہوا ۱؎ تو قیامت کے دن ( اس طرح ) آئے گا کہ اس کے زخم سے خون ٹپک رہا ہو گا ۔ رنگ خون کا ہو گا اور خوشبو مشک کی ہو گی “ ۔
وضاحت:
۱؎: اس جملہ معترضہ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے راستے میں زخمی ہونے والے شخص کے عمل کا دارومدار اس کے اخلاص پر ہے جس کا علم اللہ ہی کو ہے۔
حدیث نمبر: 3150
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " زَمِّلُوهُمْ بِدِمَائِهِمْ ، فَإِنَّهُ لَيْسَ كَلْمٌ يُكْلَمُ فِي اللَّهِ ، إِلَّا أَتَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ جُرْحُهُ يَدْمَى لَوْنُهُ لَوْنُ دَمٍ ، وَرِيحُهُ رِيحُ الْمِسْكِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن ثعلبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انہیں ( یعنی شہداء کو ) ان کے خون میں لت پت ڈھانپ دو ، کیونکہ کوئی بھی زخم جو اللہ کے راستے میں کسی کو پہنچا ہو وہ قیامت کے دن ( اس طرح ) آئے گا کہ اس کے زخم سے خون بہہ رہا ہو گا ، رنگ خون کا ہو گا ، اور خوشبو اس کی مشک کی ہو گی ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: یہ آپ نے ان شہداء کے بارے میں فرمایا جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے زخم کھا کر شہید ہو گئے تھے۔