حدیث نمبر: 3138
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ مُرَّةَ أَخْبَرَهُمْ , قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : الرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِيُذْكَرَ ، وَيُقَاتِلُ لِيَغْنَمَ ، وَيُقَاتِلُ لِيُرَى مَكَانُهُ ، فَمَنْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ قَالَ : " مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا ، فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ایک اعرابی ( دیہاتی ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا : آدمی لڑتا ہے تاکہ اس کا ذکر اور چرچا ہو ۱؎ ، لڑتا ہے تاکہ مال غنیمت حاصل کرے ، لڑتا ہے تاکہ اللہ کے راستے میں لڑنے والوں میں اس کا مقام و مرتبہ جانا پہچانا جائے تو کس لڑنے والے کو اللہ کے راستے کا مجاہد کہیں گے ؟ آپ نے فرمایا : ” اللہ کے راستے کا مجاہد اسے کہیں گے جو اللہ کا کلمہ ۲؎ بلند کرنے کے لیے لڑے “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی ریاکاری کے ساتھ لڑتا ہے تاکہ لوگوں میں اپنی بہادری کی وجہ سے جانا اور پہچانا جائے۔ ۲؎: یعنی اس کے دین کی بلندی کے لیے لڑے۔