حدیث نمبر: 3062
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ حُصَيْنٍ ، قَالَتْ : " حَجَجْتُ فِي حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَأَيْتُ بِلَالًا يَقُودُ بِخِطَامِ رَاحِلَتِهِ ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ رَافِعٌ عَلَيْهِ ثَوْبَهُ يُظِلُّهُ مِنَ الْحَرِّ ، وَهُوَ مُحْرِمٌ حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، وَذَكَرَ قَوْلًا كَثِيرًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام حصین رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا تو بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ آپ کی اونٹنی کی مہار تھامے ہوئے چل رہے تھے ، اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما آپ کو گرمی سے بچانے کے لیے آپ کے اوپر اپنے کپڑے کا سایہ کیے ہوئے تھے ۔ اور آپ حالت احرام میں تھے یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی پھر لوگوں کو خطبہ دیا ، اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی ، اور بہت سی باتیں ذکر کیں ۔
حدیث نمبر: 3063
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ صَهْبَاءَ ، لَا ضَرْبَ وَلَا طَرْدَ وَلَا إِلَيْكَ إِلَيْكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´قدامہ بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے قربانی کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی سرخ و سفید اونٹنی پر سوار جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا ، نہ کوئی مار رہا تھا ، نہ بھگا رہا ، نہ ہٹو ہٹو کہہ رہا تھا ۔
وضاحت:
۱؎: جیسا کہ آج کل کسی بڑے افسر و حاکم کے آنے پر کیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 3064
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي الْجَمْرَةَ وَهُوَ عَلَى بَعِيرِهِ وَهُوَ يَقُولُ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، خُذُوا مَنَاسِكَكُمْ ، فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَحُجُّ بَعْدَ عَامِي هَذَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اونٹ پر سوار ہو کر جمرہ کو کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا ، اور آپ فرما رہے تھے : ” لوگو ! مجھ سے اپنے حج کے طریقے سیکھ لو کیونکہ میں نہیں جانتا شاید میں اس سال کے بعد آئندہ حج نہ کر سکوں “ ۔