حدیث نمبر: 3005
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : قَالَ يَهُودِيٌّ لِعُمَرَ : لَوْ عَلَيْنَا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَاتَّخَذْنَاهُ عِيدًا : الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ سورة المائدة آية 3 , قَالَ عُمَرُ : " قَدْ عَلِمْتُ الْيَوْمَ الَّذِي أُنْزِلَتْ فِيهِ وَاللَّيْلَةَ الَّتِي أُنْزِلَتْ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ ، وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´طارق بن شہاب کہتے ہیں کہ` ایک یہودی نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا : اگر یہ آیت : «اليوم أكملت لكم دينكم» ہمارے یہاں اتری ہوتی تو جس دن یہ اتری اس دن کو ہم عید ( تہوار ) کا دن بنا لیتے ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : مجھے معلوم ہے کہ یہ آیت کس دن اتری ہے ، جس رات ۱؎ یہ آیت نازل ہوئی وہ جمعہ کی رات تھی ، اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرفات میں تھے ۔
وضاحت:
۱؎: شاید اس سے مراد سنیچر کی رات ہے جمعہ کی طرف اس کی نسبت اس وجہ سے کر دی گئی ہے کہ وہ جمعہ سے متصل تھی، مطلب یہ ہے کہ جمعہ کے دن شام کو نازل ہوئی اس طرح اللہ تعالیٰ نے دو عیدیں اس میں ہمارے لیے جمع کر دیں ایک جمعہ کی عید دوسری عرفہ کی عید۔
حدیث نمبر: 3006
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ عَبْدًا أَوْ أَمَةً مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ إِنَّهُ لَيَدْنُو ، ثُمَّ يُبَاهِي بِهِمُ الْمَلَائِكَةَ ، وَيَقُولُ : مَا أَرَادَ هَؤُلَاءِ " , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ يُونُسَ بْنَ يُوسُفَ الَّذِي رَوَى عَنْهُ مَالِكٌ وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ عزوجل عرفہ کے دن جتنے غلام اور لونڈیاں جہنم سے آزاد کرتا ہے اتنا کسی اور دن نہیں کرتا ، اس دن وہ اپنے بندوں سے قریب ہوتا ہے ، اور ان کے ذریعہ فرشتوں پر فخر کرتا ہے ، اور پوچھتا ہے ، یہ لوگ کیا چاہتے ہیں ؟ “ ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : ہو سکتا ہے یہ یونس ( جن کا اس روایت میں نام آیا ہے ) یونس بن یوسف ہوں ، جن سے مالک نے روایت کی ہے واللہ تعالیٰ اعلم ۔