حدیث نمبر: 3003
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا الْمُلَائِيُّ يَعْنِي أَبَا نُعَيْمٍ الْفَضْلَ بْنَ دُكَيْنٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَنَسٍ وَنَحْنُ غَادِيَانِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ : " مَا كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِي التَّلْبِيَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْيَوْمِ ؟ قَالَ : " كَانَ الْمُلَبِّي يُلَبِّي فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ ، وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´محمد بن ابی بکر ثقفی کہتے ہیں کہ` میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا اور ہم منیٰ سے عرفات جا رہے تھے کہ آج کے دن آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( منیٰ سے عرفات جاتے ہوئے ) کس طرح تلبیہ پکارتے تھے ، تو انہوں نے کہا : تلبیہ پکارنے والا تلبیہ پکارتا تو اس پر کوئی نکیر نہیں کی جاتی تھی ، اور تکبیر کہنے والا تکبیر کہتا تھا ، تو اس پر بھی کوئی نکیر نہیں کی جاتی تھی ۔