کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: خانہ کعبہ کے طواف کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2922
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ مِنْ لَفْظِهِ , قَالَ : أَنْبَأَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَنَّ رَجُلًا , قَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَا أَرَاكَ تَسْتَلِمُ إِلَّا هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ ؟ قَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ مَسْحَهُمَا يَحُطَّانِ الْخَطِيئَةَ " وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " مَنْ طَافَ سَبْعًا ، فَهُوَ كَعِدْلِ رَقَبَةٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ` ایک شخص نے ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ) کہا : ابوعبدالرحمٰن ( کیا بات ہے ) میں آپ کو صرف انہیں دونوں رکنوں کو ( یعنی رکن یمانی اور حجر اسود کو ) بوسہ لیتے دیکھتا ہوں ؟ تو انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” ان کے چھونے سے گناہ جھڑتے ہیں “ اور میں نے آپ کو یہ بھی فرماتے سنا ہے : ” جس نے سات بار طواف کیا تو یہ ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے ۔‏‏‏‏“
وضاحت:
۱؎: ابوعبدالرحمٰن عبداللہ بن عمر کی کنیت ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2922
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «سنن الترمذی/الحج111 (959)، (تحفة الأشراف: 7317)، مسند احمد (2/3، 11، 95) (صحیح)»