کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: حرم میں سانپ مارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2885
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " خَمْسُ فَوَاسِقَ يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ : الْحَيَّةُ ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ ، وَالْغُرَابُ الْأَبْقَعُ ، وَالْحِدَأَةُ ، وَالْفَأْرَةُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پانچ موذی جانور ہیں جو حرم اور حرم سے باہر دونوں جگہوں میں مارے جا سکتے ہیں ۔ سانپ ، کاٹ کھانے والا کتا ، چتکبرا کوا ، چیل اور چوہیا “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2885
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 2832 (صحیح)»
حدیث نمبر: 2886
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْخَيْفِ مِنْ مِنًى حَتَّى نَزَلَتْ : وَالْمُرْسَلاتِ عُرْفًا سورة المرسلات آية 1, فَخَرَجَتْ حَيَّةٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْتُلُوهَا " , فَابْتَدَرْنَاهَا فَدَخَلَتْ فِي جُحْرِهَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ کی مسجد خیف میں تھے یہاں تک کہ سورۃ ” والمرسلات عرفاً “ نازل ہوئی ، اتنے میں ایک سانپ نکلا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے مارو “ تو ہم مارنے کے لیے جلدی سے لپکے ، لیکن وہ اپنی سوراخ میں گھس گیا ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2886
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/جزاء الصید 7 (1830)، بدء الخلق16 (3317)، تفسیرالمرسلات1 (4931)، 4 (4934)، صحیح مسلم/السلام 37 (2234)، (تحفة الأشراف: 9163)، مسند احمد (1/377، 422، 428) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2887
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ عَرَفَةَ الَّتِي قَبْلَ يَوْمِ عَرَفَةَ ، فَإِذَا حِسُّ الْحَيَّةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْتُلُوهَا " فَدَخَلَتْ شَقَّ جُحْرٍ ، فَأَدْخَلْنَا عُودًا فَقَلَعْنَا بَعْضَ الْجُحْرِ ، فَأَخَذْنَا سَعَفَةً فَأَضْرَمْنَا فِيهَا نَارًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَقَاهَا اللَّهُ شَرَّكُمْ ، وَوَقَاكُمْ شَرَّهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ہم عرفہ کی رات جو عرفہ کے دن سے پہلے ہوتی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، اچانک سانپ کی سرسراہٹ محسوس ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے مارو “ لیکن وہ ایک سوراخ کے شگاف میں داخل ہو گیا تو ہم نے اس میں ایک لکڑی گھسیڑ دی ، اور سوراخ کا کچھ حصہ ہم نے اکھیڑ دیا ، پھر ہم نے کھجور کی شاخ لی اور اس میں آگ بھڑکا دی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے اسے تمہارے شر سے اور تمہیں اس کے شر سے بچا لیا “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2887
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9630)، حصحیح مسلم/1/385 (صحیح) (اس کے راوی ’’ ابو عبیدہ ‘‘ کا اپنے والد محترم ابن مسعود رضی الله عنہ سے سماع نہیں ہے، مگر پچھلی سند سے یہ حدیث صحیح ہے)»