حدیث نمبر: 2877
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ ، عَنْ جَرِيرٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ : " هَذَا الْبَلَدُ حَرَّمَهُ اللَّهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ ، فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، لَا يُعْضَدُ شَوْكُهُ وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ ، وَلَا يَلْتَقِطُ لُقَطَتَهُ إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا ، وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهُ " ، قَالَ الْعَبَّاسُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا الْإِذْخِرَ ؟ فَذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا إِلَّا الْإِذْخِرَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ وہ شہر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اسی دن سے محترم قرار دیا ہے جس دن اس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا ، لہٰذا یہ اللہ کی حرمت کی سبب سے قیامت تک حرمت والا رہے گا ، نہ اس کے کانٹے کاٹے جائیں گے ، نہ اس کے شکار بدکائے جائیں گے ، نہ وہاں کی کوئی گری پڑی چیز اٹھائے گا سوائے اس شخص کے جو اس کی پہچان کرائے اور نہ وہاں کی ہری شاخ کاٹی جائے گی “ ، اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : اللہ کے رسول ! سوائے اذخر کے ۱؎ تو آپ نے ایک بات کہی جس کا مفہوم ہے سوائے اذخر کے ۔
وضاحت:
۱؎: اذخر ایک قسم کی مشہور گھاس ہے جو خوشبودار ہوتی ہے۔