حدیث نمبر: 2854
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ , عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ مَالِكٍ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمًا ، فَآذَاهُ الْقَمْلُ فِي رَأْسِهِ ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْلِقَ رَأْسَهُ ، وَقَالَ : " صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ مُدَّيْنِ مُدَّيْنِ ، أَوِ انْسُكْ شَاةً ، أَيَّ ذَلِكَ فَعَلْتَ أَجْزَأَ عَنْكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´کعب بن عجرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` وہ احرام باندھے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، تو ان کے سر کے جوئیں انہیں تکلیف دینے لگیں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سر منڈا لینے کا حکم دیا اور فرمایا : ” ( اس کے کفارہ کے طور پر ) تین دن کے روزے رکھو ، یا چھ مسکینوں کوفی مسکین دو دو مد کے حساب سے کھانا کھلاؤ ، یا ایک بکری ذبح کرو ، ان تینوں میں سے جو بھی کر لو گے تمہاری طرف سے کافی ہو جائے گا “ ۔
حدیث نمبر: 2855
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الرِّبَاطِيُّ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ الدَّشْتَكِيُّ , قَالَ : أَنْبَأَنَا عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ أَبِي قَيْسٍ ، عَنْ الزُّبَيْرِ وَهُوَ ابْنُ عَدِيٍّ , عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ : أَحْرَمْتُ فَكَثُرَ قَمْلُ رَأْسِي ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَانِي وَأَنَا أَطْبُخُ قِدْرًا لِأَصْحَابِي ، فَمَسَّ رَأْسِي بِإِصْبَعِهِ ، فَقَالَ : " انْطَلِقْ فَاحْلِقْهُ ، وَتَصَدَّقْ عَلَى سِتَّةِ مَسَاكِينَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´کعب بن عجرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے عمرہ کا احرام باندھا تو میرے سر میں جوئیں بہت ہو گئیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر پہنچی تو آپ میرے پاس تشریف لائے ، اس وقت میں اپنے ساتھیوں کے لیے کھانا پکا رہا تھا ، تو آپ نے اپنی انگلی سے میرا سر چھوا اور فرمایا : ” جاؤ ، سر منڈا لو اور چھ مسکینوں پر صدقہ کر دو “ ۔