حدیث نمبر: 2834
أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ امْرَأَةً دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ وَبِيَدِهَا عُكَّازٌ ، فَقَالَتْ : مَا هَذَا ؟ فَقَالَتْ : لِهَذِهِ الْوَزَغِ ، لِأَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ شَيْءٌ إِلَّا يُطْفِئُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام ، إِلَّا هَذِهِ الدَّابَّةُ ، فَأَمَرَنَا بِقَتْلِهَا ، وَنَهَى عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ ، إِلَّا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ ، فَإِنَّهُمَا يَطْمِسَانِ الْبَصَرَ ، وَيُسْقِطَانِ مَا فِي بُطُونِ النِّسَاءِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´تابعی سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ` ایک عورت ام المؤمنین عائشہ کے پاس آئی ، اور ان کے ہاتھ میں لوہے کی پھلی لگی ہوئی لاٹھی تھی ، اس عورت نے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ کہا : یہ ان چھپکلیوں ( کے مارنے ) کے لیے ہے ۔ اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کی آگ کو اس جانور کے سوا سبھی جانور بجھاتے تھے اسی وجہ سے آپ نے ہمیں اسے مارنے کا حکم دیا ہے ۔ اور گھروں میں رہنے والے سانپ کے مارنے سے روکا ہے سوائے دو دھاریوں والے ، اور دم بریدہ سانپ کے کیونکہ یہ دونوں بصارت کو زائل کر دیتے ہیں ، اور حاملہ عورت کا حمل گرا دیتے ہیں ۔