کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: چھوٹے بچے کو حج کرانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2646
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً رَفَعَتْ صَبِيًّا لَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ " أَلِهَذَا حَجٌّ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَلَكِ أَجْرٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` ایک عورت نے اپنے بچے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اٹھایا اور پوچھا : اللہ کے رسول ! کیا اس کا بھی حج ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں ( اس کا بھی حج ہے ) اور تمہیں اس کا اجر ملے گا “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ چھوٹے بچے کو حج کرانا جائز ہے اس کا اجر ماں باپ کو ملے گا لیکن کوئی بچہ بالغ ہونے کے بعد صاحب استطاعت ہو جائے تو اس کے لیے دوبارہ فریضہ حج کی ادائیگی ضروری ہو گی بچپن کا کیا ہوا حج کافی نہیں ہو گا۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2646
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الحج72 (1336)، (تحفة الأشراف: 6360)، مسند احمد (1/343) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2647
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : رَفَعَتِ امْرَأَةٌ صَبِيًّا لَهَا مِنْ هَوْدَجٍ ، فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ " أَلِهَذَا حَجٌّ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَلَكِ أَجْرٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` ایک عورت نے اپنے بچے کو ہودج سے اوپر اٹھایا اور کہنے لگی : اللہ کے رسول ! کیا اس کا بھی حج ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں ( اس کا بھی حج ہے ) اور تمہیں اس کا اجر ملے گا ۔ “
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2647
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 2646 (صحیح)»
حدیث نمبر: 2648
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : رَفَعَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَبِيًّا ، فَقَالَتْ : " أَلِهَذَا حَجٌّ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَلَكِ أَجْرٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` ایک عورت نے ایک بچے کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اٹھایا اور پوچھنے لگی : کیا اس کا بھی حج ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں ( اس کا بھی حج ہے ) اور تمہیں اس کا اجر ملے گا “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2648
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الحج 72 (1336)، سنن ابی داود/الحج 8 (1736)، (تحفة الأشراف: 6336)، موطا امام مالک/الحج 81 (244)، مسند احمد (1/244، 288، 344) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2649
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : صَدَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا كَانَ بِالرَّوْحَاءِ لَقِيَ قَوْمًا ، فَقَالَ : " مَنْ أَنْتُمْ ؟ قَالُوا : الْمُسْلِمُونَ ، قَالُوا : مَنْ أَنْتُمْ ؟ قَالُوا : رَسُولُ اللَّهِ ، قَالَ : فَأَخْرَجَتِ امْرَأَةٌ صَبِيًّا مِنَ الْمِحَفَّةِ فَقَالَتْ : أَلِهَذَا حَجٌّ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَلَكِ أَجْرٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے جب روحاء پہنچے تو کچھ لوگوں سے ملے تو آپ نے پوچھا : ” تم کون لوگ ہو ؟ “ ان لوگوں نے کہا : ہم مسلمان ہیں ، پھر ان لوگوں نے پوچھا : آپ کون ہیں ؟ لوگوں نے بتایا : ” آپ اللہ کے رسول ہیں “ ، یہ سن کر ایک عورت نے کجاوے سے ایک بچے کو نکالا ، اور پوچھنے لگی : کیا اس کے لیے حج ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں اور ثواب تمہیں ملے گا “ ۔
وضاحت:
۱؎: مکہ کے راستے میں مدینہ سے ۳۶ میل (۷۵ کلومیٹر) کی دوری پر ایک مقام کا نام ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2649
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 2646 (صحیح)»
حدیث نمبر: 2650
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ حَمَّادِ بْنِ سَعْدٍ ابْن أَخِي رِشْدِينَ بْنِ سَعْدٍ أَبُو الرَّبِيعِ , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَرَّ بِامْرَأَةٍ وَهِيَ فِي خِدْرِهَا ، مَعَهَا صَبِيٌّ ، فَقَالَتْ : " أَلِهَذَا حَجٌّ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَلَكِ أَجْرٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک عورت کے پاس سے گزرے وہ پردے میں تھی اور اس کے ساتھ ایک چھوٹا بچہ تھا ، اس نے کہا : کیا اس کے لیے حج ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، اور ثواب تمہیں ملے گا “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2650
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح م دون ذكر الخدر , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 2648 (صحیح)»