کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: مہینے میں دس دن کا روزہ اور اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کی حدیث کے ناقلین کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2399
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ أَسْبَاطٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَقُومُ اللَّيْلَ ، وَتَصُومُ النَّهَارَ , قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ! مَا أَرَدْتُ بِذَلِكَ إِلَّا الْخَيْرَ , قَالَ : " لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ وَلَكِنْ أَدُلُّكَ عَلَى صَوْمِ الدَّهْرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ " , قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ! إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ , قَالَ : " صُمْ خَمْسَةَ أَيَّامٍ " , قُلْتُ : إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ , قَالَ : " فَصُمْ عَشْرًا " , فَقُلْتُ : إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ , قَالَ : " صُمْ صَوْمَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا " ,
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے خبر ملی ہے کہ تم رات میں قیام کرتے ہو ، اور دن کو روزہ رکھتے ہو ؟ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے اس سے خیر کا ارادہ کیا ہے ، آپ نے فرمایا : ” جس نے ہمیشہ کا روزہ رکھا اس نے روزہ ہی نہیں رکھا ، لیکن میں تمہیں بتاتا ہوں کہ ہمیشہ کا روزہ کیا ہے ؟ یہ مہینہ میں صرف تین دن کا روزہ ہے “ ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ، آپ نے فرمایا : ” پانچ دن رکھ لیا کرو “ ، میں نے عرض کیا : میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ، آپ نے فرمایا : ” تو دس دن رکھ لیا کرو “ ، میں نے عرض کیا : میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ، آپ نے فرمایا : ” تم داود علیہ السلام کے روزے رکھا کرو “ ، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الصيام / حدیث: 2399
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 2379 (صحیح)»
حدیث نمبر: 2400
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حَبِيبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو الْعَبَّاسِ وَكَانَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الشَّامِ وَكَانَ شَاعِرًا وَكَانَ صَدُوقًا ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ، پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الصيام / حدیث: 2400
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 2379و2390 (صحیح)»
حدیث نمبر: 2401
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ هُوَ الشَّاعِرُ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ! إِنَّكَ تَصُومُ الدَّهْرَ ، وَتَقُومُ اللَّيْلَ ، وَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ هَجَمَتِ الْعَيْنُ ، وَنَفِهَتْ لَهُ النَّفْسُ ، لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ ، صَوْمُ الدَّهْرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ صَوْمُ الدَّهْرِ كُلِّهِ " , قُلْتُ : إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ , قَالَ : " صُمْ صَوْمَ دَاوُدَ ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا ، وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” عبداللہ بن عمرو ! تم ہمیشہ روزہ رکھتے ہو اور رات میں کرتے ہو ، جب تم ایسا کرو گے تو آنکھیں اندر کو دھنس جائیں گی اور نفس تھک جائے گا ، جو ہمیشہ روزہ رہے گا اس کا روزہ نہ ہو گا ، ہر مہینے میں تین دن کا روزہ پورے سال کے روزہ کے برابر ہے “ ، میں نے عرض کیا : میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ، آپ نے فرمایا : ” صوم داود رکھو ، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن بغیر روزہ کے رہتے تھے ، اور جب دشمن سے مڈبھیڑ ہوتی تو بھاگتے نہیں تھے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الصيام / حدیث: 2401
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 2379 (صحیح)»
حدیث نمبر: 2402
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْرَأِ الْقُرْآنَ فِي شَهْرٍ " , قُلْتُ : إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، فَلَمْ أَزَلْ أَطْلُبُ إِلَيْهِ حَتَّى قَالَ : " فِي خَمْسَةِ أَيَّامٍ " ، وَقَالَ : " صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ " , قُلْتُ : إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ ، فَلَمْ أَزَلْ أَطْلُبُ إِلَيْهِ حَتَّى قَالَ : " صُمْ أَحَبَّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ صَوْمَ دَاوُدَ ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” قرآن ایک مہینہ میں پڑھا کرو “ ، میں نے عرض کیا : میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ، اور پھر میں برابر آپ سے مطالبہ کرتا رہا ، یہاں تک کہ آپ نے فرمایا : ” پانچ دن میں پڑھا کرو ، اور مہینہ میں تین دن روزہ رکھو “ ، میں نے عرض کیا : میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ، تو میں برابر آپ سے مطالبہ کرتا رہا یہاں تک کہ آپ نے فرمایا : ” داود علیہ السلام کا روزہ رکھو ، جو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہے ، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے ، اور ایک دن بغیر روزہ کے رہتے تھے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الصيام / حدیث: 2402
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 2390 (صحیح)»
حدیث نمبر: 2403
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : سَمِعْتُ عَطَاءً ، يَقُولُ : إِنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ الشَّاعِرَ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : بَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَصُومُ أَسْرُدُ الصَّوْمَ ، وَأُصَلِّي اللَّيْلَ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ وَإِمَّا لَقِيَهُ قَالَ : " أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ وَلَا تُفْطِرُ ، وَتُصَلِّي اللَّيْلَ ، فَلَا تَفْعَلْ ، فَإِنَّ لِعَيْنِكَ حَظًّا ، وَلِنَفْسِكَ حَظًّا ، وَلِأَهْلِكَ حَظًّا ، وَصُمْ وَأَفْطِرْ ، وَصَلِّ وَنَمْ ، وَصُمْ مِنْ كُلِّ عَشَرَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ تِسْعَةٍ " , قَالَ : إِنِّي أَقْوَى لِذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ! قَالَ : " صُمْ صِيَامَ دَاوُدَ " , إِذًا قَالَ : وَكَيْفَ كَانَ صِيَامُ دَاوُدَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ قَالَ : " كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا ، وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى " , قَالَ : وَمَنْ لِي بِهَذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی کہ میں روزہ رکھتا ہوں اور مسلسل رکھتا ہوں ، اور رات میں نماز تہجد پڑھتا ہوں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا بھیجا ، یا آپ ان سے ملے تو آپ نے فرمایا : ” کیا مجھے خبر نہیں دی گئی ہے کہ تم ( ہمیشہ ) روزہ رکھتے ہو ، اور کبھی بغیر روزہ کے نہیں رہتے ، اور رات میں تہجد کی نماز پڑھتے ہو ، تم ایسا نہ کرو کیونکہ تمہاری آنکھ کا بھی ایک حصہ ہے ، اور تمہارے نفس کا بھی ایک حصہ ہے ، تمہاری بیوی کا بھی ایک حصہ ہے ، تم روزہ بھی رکھو اور افطار بھی کرو ، نماز بھی پڑھو اور سوؤ بھی ، ہر دس دن میں ایک دن روزہ رکھو ، تمہیں باقی نو دنوں کا بھی ثواب ملے گا “ ، انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا : ” پھر تو تم روزہ داود رکھا کرو “ ، پوچھا : اللہ کے نبی ! داود علیہ السلام کے روزہ کیسے ہوا کرتے تھے ؟ آپ نے فرمایا : ” وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے ، اور جب دشمن سے مڈبھیڑ ہوتی تو بھاگتے نہیں تھے “ ، انہوں نے کہا : کون ایسا کر سکتا ہے ؟ اللہ کے نبی ! ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الصيام / حدیث: 2403
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد ق نحوه دون قوله قال ومن لي , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر رقم 2390 (صحیح الإسناد)»