کتب حدیث ›
سنن نسائي › ابواب
› باب: ماہ رمضان کے چاند (دیکھنے) پر ایک آدمی کی گواہی قبول کرنے کا بیان اور سماک (والی) حدیث میں راویوں کے سفیان پر اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : رَأَيْتُ الْهِلَالَ ، فَقَالَ : " أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " ، قَالَ : نَعَمْ ، فَنَادَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ صُومُوا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ( اور ) کہنے لگا : میں نے چاند دیکھا ہے ، تو آپ نے کہا : ” کیا تم شہادت دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ، اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں ؟ “ اس نے کہا : ہاں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں روزہ رکھنے کا اعلان کر دیا ۔
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : أَبْصَرْتُ الْهِلَالَ اللَّيْلَةَ ، قَالَ : " أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " , قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " يَا بِلَالُ , أَذِّنْ فِي النَّاسِ ، فَلْيَصُومُوا غَدًا " ,
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` ایک اعرابی ( دیہاتی ) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا : میں نے آج رات چاند دیکھا ہے ، آپ نے پوچھا : ” کیا تم شہادت دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں ؟ “ اس نے کہا : ہاں ، تو آپ نے فرمایا : ” بلال ! لوگوں میں اعلان کر دو کہ کل سے روزے رکھیں “ ۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ مُرْسَلٌ ,
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے` عکرمہ سے یہ حدیث مرسلاً مروی ہے ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ نُعَيْمٍ مِصِّيصِيٌّ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ مُرْسَلٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے` بھی عکرمہ سے یہ حدیث مرسلاً مروی ہے ۔
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ شَبِيبٍ أَبُو عُثْمَانَ وَكَانَ شَيْخًا صَالِحًا بِطَرَسُوسَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ الْحَارِثِ الْجَدَلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنَّهُ خَطَبَ النَّاسَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ , فَقَالَ : أَلَا إِنِّي جَالَسْتُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَسَاءَلْتُهُمْ ، وَإِنَّهُمْ حَدَّثُونِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ ، وَانْسُكُوا لَهَا ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا ثَلَاثِينَ ، فَإِنْ شَهِدَ شَاهِدَانِ ، فَصُومُوا وَأَفْطِرُوا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن زید بن خطاب سے روایت ہے کہ` انہوں نے ایک ایسے دن میں جس میں شک تھا ( کہ رمضان کی پہلی تاریخ ہے یا شعبان کی آخری ) لوگوں سے خطاب کیا تو کہا : سنو ! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ہم نشینی کی ، اور میں ان کے ساتھ بیٹھا تو میں نے ان سے سوالات کئے ، اور انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم چاند دیکھ کر روزہ رکھو ، اور چاند دیکھ کر افطار کرو ، اور اسی طرح حج بھی کرو ، اور اگر تم پر مطلع ابر آلود ہو تو تیس ( کی گنتی ) پوری کرو ، ( اور ) اگر دو گواہ ( چاند دیکھنے کی ) شہادت دے دیں تو روزے رکھو ، اور افطار ( یعنی عید ) کرو “ ۔