حدیث نمبر: 2008
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قال : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، قال : حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ نَاجِيَةَ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قال : قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ عَمَّكَ الشَّيْخَ الضَّالَّ مَاتَ ، فَمَنْ يُوَارِيهِ ؟ قَالَ : " اذْهَبْ فَوَارِ أَبَاكَ وَلَا تُحْدِثَنَّ حَدَثًا حَتَّى تَأْتِيَنِي " ، فَوَارَيْتُهُ ثُمَّ جِئْتُ فَأَمَرَنِي فَاغْتَسَلْتُ وَدَعَا لِي وَذَكَرَ دُعَاءً لَمْ أَحْفَظْهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : آپ کے بوڑھے گم کردہ راہ چچا ( ابوطالب ) مر گئے ہیں ، انہیں کون دفن کرے ؟ آپ نے فرمایا : ” تم جاؤ اور اپنے باپ کو دفن کر دو اور کوئی نئی چیز نہ کرنا جب تک میرے پاس لوٹ نہ آنا “ ، چنانچہ میں انہیں دفن کر آیا ، تو آپ نے میرے لیے ( نہانے کا ) حکم دیا ، میں نے غسل کیا ، اور آپ نے مجھے دعا دی ۔ راوی ناجیہ بن کعب کہتے ہیں : اور علی رضی اللہ عنہ نے ایک ایسی دعا کا ذکر کیا جسے میں یاد نہیں رکھ سکا ۔