حدیث نمبر: 1980
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قال : أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قال : أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قال : سَمِعْتُ نَافِعًا يَزْعُمُ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ " صَلَّى عَلَى تِسْعِ جَنَائِزَ جَمِيعًا فَجَعَلَ الرِّجَالَ يَلُونَ الْإِمَامَ وَالنِّسَاءَ يَلِينَ الْقِبْلَةَ فَصَفَّهُنَّ صَفًّا وَاحِدًا ، وَوُضِعَتْ جَنَازَةُ أُمِّ كُلْثُومِ بِنْتِ عَلِيٍّ امْرَأَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَابْنٍ لَهَا يُقَالُ لَهُ زَيْدٌ ، وُضِعَا جَمِيعًا وَالْإِمَامُ يَوْمَئِذٍ سَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ ، وَفِي النَّاسِ ابْنُ عُمَرَ ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ ، وَأَبُو سَعِيدٍ ، وَأَبُو قَتَادَةَ فَوُضِعَ الْغُلَامُ مِمَّا يَلِي الْإِمَامَ فَقَالَ رَجُلٌ : فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ فَنَظَرْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ ، وَأَبِي قَتَادَةَ , فَقُلْتُ : مَا هَذَا ؟ قَالُوا : هِيَ السُّنَّةُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نافع کہتے ہیں کہ` ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نو جنازوں کی ایک ساتھ نماز پڑھی ، تو مرد امام سے قریب رکھے گئے ، اور عورتیں قبلہ سے قریب ، ان سب عورتوں کی ایک صف بنائی ، اور علی رضی اللہ عنہ کی بیٹی اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی بیوی ام کلثوم ، اور ان کے بیٹے زید دونوں کا جنازہ ایک ساتھ رکھا گیا ، امام اس دن سعید بن العاص تھے ، اور لوگوں میں ابن عمر ، ابوہریرہ ، ابوسعید اور ابوقتادہ رضی اللہ عنہم ( بھی موجود ) تھے ، بچہ امام سے قریب رکھا گیا ، تو ایک شخص نے کہا : مجھے یہ چیز ناگوار لگی ، تو میں نے ابن عباس ، ابوہریرہ ، ابوسعید اور ابوقتادہ ( رضی اللہ عنہم ) کی طرف ( حیرت سے ) دیکھا ، اور پوچھا : یہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے کہا : یہی سنت ( نبی کا طریقہ ) ہے ۔
حدیث نمبر: 1981
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قال : أَنْبَأَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، وَالْفَضْلُ بْنُ مُوسَى . ح وأَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ ، قال : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُكْتِبِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى أُمِّ فُلَانٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا فَقَامَ فِي وَسَطِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سمرہ بن جندب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں کی ماں کی نماز جنازہ پڑھی جو اپنی زچگی میں مر گئیں تھیں ، تو آپ ان کے بیچ میں یعنی کمر کے پاس کھڑے ہوئے ۔