کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: خودکشی کرنے والے کی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1966
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قال : أَنْبَأَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرٌ ، قال : حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، عَنِ ابْنِ سَمُرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا قَتَلَ نَفْسَهُ بِمَشَاقِصَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَّا أَنَا فَلَا أُصَلِّي عَلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابن سمرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` ایک شخص نے تیر کی انی سے خودکشی کر لی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رہا میں تو میں اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھ سکتا “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 1966
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الجنائز 36 (978)، (تحفة الأشراف: 2157)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز 51 (3185) مطولاً، سنن الترمذی/الجنائز 68 (1068)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 31 (1526) ، مسند احمد 5/87، 90، 91، 92، 94، 96، 97، 100، 107 (صحیح)»
حدیث نمبر: 1967
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قال : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، قال : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، سَمِعْتُ ذَكْوَانَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ تَرَدَّى مِنْ جَبَلٍ فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَهُوَ فِي نَارِ جَهَنَّمَ يَتَرَدَّى خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا ، وَمَنْ تَحَسَّى سُمًّا فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَسُمُّهُ فِي يَدِهِ يَتَحَسَّاهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا ، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِحَدِيدَةٍ ثُمَّ انْقَطَعَ عَلَيَّ شَيْءٌ خَالِدٌ , يَقُولُ : كَانَتْ حَدِيدَتُهُ فِي يَدِهِ يَجَأُ بِهَا فِي بَطْنِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اپنے آپ کو کسی پہاڑ سے گرا کر مار ڈالے ، تو وہ جہنم میں ہمیشہ ہمیش اپنے آپ کو اوپر سے نیچے گراتا رہے گا ، اور جو زہر پی کر اپنے آپ کو مار ڈالے تو وہ زہر اس کے ہاتھ میں رہے گا اسے وہ ہمیشہ ہمیش جہنم میں پیتا رہے گا ، اور جو شخص کسی دھار دار چیز سے اپنے آپ کو مار ڈالے ( راوی کہتے ہیں : پھر کوئی چیز میرے سننے سے رہ گئی ۱؎ ، خالد کہہ رہے تھے : ) تو اس کا لوہا اس کے ہاتھ میں ہو گا اسے وہ جہنم کی آگ میں اپنے پیٹ میں برابر گھونپتا رہے گا “ ۔
وضاحت:
۱؎: یہ متن حدیث کا حصہ نہیں ہے بلکہ خالد سے روایت کرنے والے راوی کا کلام ہے یعنی خالد کہہ رہے تھے کہ «من قتل نفسہ بحدیدۃ» کے بعد کوئی لفظ رہ گیا ہے جسے میں سن نہیں سکا۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 1967
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الطب 56 (5778)، صحیح مسلم/الإیمان 47 (109)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطب 11 (3872)، سنن الترمذی/الطب 7 (1044)، سنن ابن ماجہ/الطب 11 (1043)، (تحفة الأشراف: 12394) ، مسند احمد 2/254، 278، 488، سنن الدارمی/الدیات 10 (2407) (صحیح)»