کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: بچوں پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1949
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قال : حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ خَالَتِهَا أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَبِيٍّ مِنْ صِبْيَانِ الْأَنْصَارِ فَصَلَّى عَلَيْهِ , قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقُلْتُ : طُوبَى لِهَذَا عُصْفُورٌ مِنْ عَصَافِيرِ الْجَنَّةِ لَمْ يَعْمَلْ سُوءًا وَلَمْ يُدْرِكْهُ , قَالَ : " أَوَ غَيْرُ ذَلِكَ يَا عَائِشَةُ ، خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ وَخَلَقَ لَهَا أَهْلًا وَخَلَقَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ ، وَخَلَقَ النَّارَ وَخَلَقَ لَهَا أَهْلًا وَخَلَقَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` انصار کے بچوں میں سے ایک بچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا ، تو آپ نے اس کی جنازے کی نماز پڑھی ، میں نے کہا : ( یہ ) خوش بخت جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے ، نہ تو اس نے کوئی برا کام کیا ، اور نہ اس عمر رضی اللہ عنہ کو پہنچا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یا عائشہ ! اس کے علاوہ کچھ اور معاملہ ہے اللہ تعالیٰ نے جنت کی تخلیق فرمائی ، اور اس کے لیے لوگ پیدا کئے ، جبکہ اپنے باپوں کی پشت میں تھے ، اور ( اللہ ) نے جہنم کی تخلیق کی ، اور اس کے لیے لوگ پیدا کیے جبکہ وہ اپنے باپوں کی پشت میں تھے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اور وہ توقف ہے، لیکن یہ پہلے کی بات ہے، بعد میں آپ نے یہ بتایا کہ مسلمانوں کے نابالغ بچے جنت میں جائیں گے، البتہ کفار و مشرکین کے بچوں کی بابت جمہور کا موقف یہی ہے کہ ان کے بارے میں توقف اختیار کیا جائے، دیکھئیے حدیث رقم: ۱۹۵۱، ۱۹۵۳۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 1949
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/القدر 6 (2662)، سنن ابی داود/السنة 18 (4713)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 10 (82)، (تحفة الأشراف: 17873) ، مسند احمد 6/41، 208 (صحیح)»