کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: مردوں کو برا بھلا کہنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 1938
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، عَنْ بِشْرٍ وَهُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ فَإِنَّهُمْ قَدْ أَفْضَوْا إِلَى مَا قَدَّمُوا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے مردوں کو برا بھلا نہ کہو کیونکہ انہوں نے جو کچھ آگے بھیجا تھا ، اس تک پہنچ چکے ہیں “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی انہیں اپنے اعمال کی جزا و سزا مل رہی ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 1938
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الجنائز 97 (1393)، والرقاق 42 (6516)، (تحفة الأشراف: 17576) ، مسند احمد 6/180، سنن الدارمی/السیر 68 (2553) (صحیح)»
حدیث نمبر: 1939
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، قال : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَتْبَعُ الْمَيِّتَ ثَلَاثَةٌ أَهْلُهُ وَمَالُهُ وَعَمَلُهُ , فَيَرْجِعُ اثْنَانِ أَهْلُهُ وَمَالُهُ وَيَبْقَى وَاحِدٌ عَمَلُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مردے ( کے ساتھ ) تین چیزیں ( قبرستان تک ) جاتی ہیں : اس کے گھر والے ، اس کا مال ، اور اس کا عمل ، ( پھر ) دو چیزیں یعنی اس کے گھر والے اور اس کا مال لوٹ آتے ہیں ، اور ایک باقی رہ جاتا ہے اور وہ اس کا عمل ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 1939
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الرقاق 42 (6514)، صحیح مسلم/الزھد 1 (2960)، سنن الترمذی/فیہ 46 (2379)، (تحفة الأشراف: 540) ، مسند احمد 3/110 (صحیح)»
حدیث نمبر: 1940
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لِلْمُؤْمِنِ عَلَى الْمُؤْمِنِ سِتُّ خِصَالٍ : يَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ ، وَيَشْهَدُهُ إِذَا مَاتَ ، وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ ، وَيُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ ، وَيُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ ، وَيَنْصَحُ لَهُ إِذَا غَابَ أَوْ شَهِدَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مومن کے مومن پر چھ حقوق ہیں : جب بیمار ہو تو وہ اس کی عیادت کرے ، جب مر جائے تو اس کے جنازے میں شریک رہے ، جب دعوت کرے تو اسے قبول کرے ، جب وہ اس سے ملے تو اسے سلام کرے ، جب چھینکے اور «الحمد للہ» کہے تو جواب میں «یرحمک اللہ» کہے ، اور اس کی خیر خواہی کرے خواہ اس کے پیٹھ پیچھے ہو یا سامنے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 1940
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «سنن الترمذی/الأدب 1 (2737)، (تحفة الأشراف: 13066) ، مسند احمد 2/321، 372، 412، 540 (صحیح) و ورد عندخ و م بلفظ ’’خمس‘‘أی بعدم ذکر ’’وینصح لہ إذا۔۔۔ الخ‘‘ راجع خ /الجنائز 2 (1240)، صحیح مسلم/السلام 3 (2162)»