کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: موت سے مومن کو آرام مل جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 1932
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ ، أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرَّ عَلَيْهِ بِجَنَازَةٍ فَقَالَ : " مُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ " , فَقَالُوا : مَا الْمُسْتَرِيحُ وَمَا الْمُسْتَرَاحُ مِنْهُ ؟ قَالَ : " الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ يَسْتَرِيحُ مِنْ نَصَبِ الدُّنْيَا وَأَذَاهَا ، وَالْعَبْدُ الْفَاجِرُ يَسْتَرِيحُ مِنْهُ الْعِبَادُ وَالْبِلَادُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوقتادہ بن ربعی رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ لے جایا گیا ، تو آپ نے فرمایا : ( یہ ) «مستریح» ہے یا «مستراح منہ» ہے ، تو لوگوں نے پوچھا : «مستریح» اور «مستراح منہ» سے کیا مراد ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بندہ مومن ( موت کے بعد ) دنیا کی بلا اور تکلیف سے راحت پا لیتا ہے ، اور فاجر ۱؎ بندہ مرتا ہے تو اس سے اللہ کے بندے ، بستیاں ، پیڑ پودے ، اور چوپائے ( سب ) راحت پا لیتے ہیں “ ۔
وضاحت:
۱؎: بعض لوگوں نے کہا ہے فاجر سے مراد کافر ہے کیونکہ یہاں مومن کے بالمقابل استعمال ہوا ہے، لیکن صحیح یہ ہے کہ اسے کافر اور فاجر دونوں کے لیے عام مانا جائے، کیونکہ کافر کی طرح فاجر مسلمان بھی بندگان اللہ کو اپنے مظالم کا شکار بناتے ہیں، واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 1932
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الرقاق 42 (6512)، صحیح مسلم/الجنائز 21 (950)، (تحفة الأشراف: 12128)، موطا امام مالک/الجنائز 16 (54) ، مسند احمد 5/296، 202، 304 (صحیح)»