حدیث نمبر: 1901
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قال : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قال : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، قال : حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قال : لَمَّا مَاتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ جَاءَ ابْنُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : اعْطِنِي قَمِيصَكَ حَتَّى أُكَفِّنَهُ فِيهِ وَصَلِّ عَلَيْهِ وَاسْتَغْفِرْ لَهُ فَأَعْطَاهُ قَمِيصَهُ , ثُمَّ قَالَ : " إِذَا فَرَغْتُمْ فَآذِنُونِي أُصَلِّي عَلَيْهِ " فَجَذَبَهُ عُمَرُ وَقَالَ : قَدْ نَهَاكَ اللَّهُ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى الْمُنَافِقِينَ , فَقَالَ : " أَنَا بَيْنَ خِيرَتَيْنِ قَالَ : اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ ، فَصَلَّى عَلَيْهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى وَلا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ سورة التوبة آية 84 " فَتَرَكَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِمْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` جب عبداللہ بن ابی ( منافق ) مر گیا ، تو اس کے بیٹے ( عبداللہ رضی اللہ عنہ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، ( اور ) عرض کیا : ( اللہ کے رسول ! ) آپ مجھے اپنی قمیص دے دیجئیے تاکہ میں اس میں انہیں کفنا دوں ، اور آپ ان پر نماز ( جنازہ ) پڑھ دیجئیے ، اور ان کے لیے مغفرت کی دعا بھی کر دیجئیے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص انہیں دے دی ، پھر فرمایا : ” جب تم فارغ ہو لو تو مجھے خبر کرو میں ان کی نماز ( جنازہ ) پڑھوں گا “ ( اور جب نماز کے لیے کھڑے ہوئے ) تو عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو کھینچا ، اور کہا : اللہ تعالیٰ نے آپ کو منافقین پر نماز ( جنازہ ) پڑھنے سے منع فرمایا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں دو اختیارات کے درمیان ہوں ( اللہ تعالیٰ نے ) فرمایا : «استغفر لهم أو لا تستغفر لهم» ” تم ان کے لیے مغفرت چاہو یا نہ چاہو دونوں برابر ہے “ ( التوبہ : ۸۰ ) چنانچہ آپ نے اس کی نماز ( جنازہ ) پڑھی ، تو اللہ تعالیٰ نے ( یہ آیت ) نازل فرمائی : «ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره» ” تم ان ( منافقین ) میں سے کسی پر کبھی بھی نماز جنازہ نہ پڑھو ، اور نہ ہی ان کی قبر پر کھڑے ہو “ ( التوبہ : ۸۴ ) تو آپ نے ان کی نماز جنازہ پڑھنا چھوڑ دیا ۔
حدیث نمبر: 1902
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَمْرٍو ، قال : سَمِعْتُ جَابِرًا ، يَقُولُ : " أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ وَقَدْ وُضِعَ فِي حُفْرَتِهِ فَوَقَفَ عَلَيْهِ فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ لَهُ فَوَضَعَهُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ وَنَفَثَ عَلَيْهِ مِنْ رِيقِهِ " وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی کی قبر پر آئے ، اور اسے اس کی قبر میں رکھا جا چکا تھا ، تو آپ اس پر کھڑے ہوئے ، اور اس کے نکالنے کا حکم دیا تو اسے نکالا گیا ، تو آپ نے اسے اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھا ، اور اپنی قمیص پہنائی اور اس پر تھو تھو کیا ، واللہ تعالیٰ اعلم ۔
حدیث نمبر: 1903
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ الْبَصْرِيُّ ، قال : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ : " وَكَانَ الْعَبَّاسُ بِالْمَدِينَةِ فَطَلَبَتِ الْأَنْصَارُ ثَوْبًا يَكْسُونَهُ فَلَمْ يَجِدُوا قَمِيصًا يَصْلُحُ عَلَيْهِ إِلَّا قَمِيصَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ فَكَسَوْهُ إِيَّاهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ مدینے میں تھے ، تو انصار نے ایک کپڑا تلاش کیا جو انہیں پہنائیں ، تو عبداللہ بن ابی کی قمیص کے سوا کوئی قمیص نہیں ملی جو ان پر فٹ آتی ، تو انہوں نے انہیں وہی پہنا دیا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اور اسی احسان کے بدلے کے طور پر آپ نے مرنے پر عبداللہ بن ابی کو اپنی قمیص دی۔
حدیث نمبر: 1904
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قال : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ الْأَعْمَشِ . ح وأَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ ، قال : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، قال : سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ ، قال : سَمِعْتُ شَقِيقًا ، قال : حَدَّثَنَا خَبَّابٌ ، قال : " هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبْتَغِي وَجْهَ اللَّهِ تَعَالَى فَوَجَبَ أَجْرُنَا عَلَى اللَّهِ ، فَمِنَّا مَنْ مَاتَ لَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ فَلَمْ نَجِدْ شَيْئًا نُكَفِّنُهُ فِيهِ إِلَّا نَمِرَةً ، كُنَّا إِذَا غَطَّيْنَا رَأْسَهُ خَرَجَتْ رِجْلَاهُ , وَإِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رِجْلَيْهِ خَرَجَتْ رَأْسُهُ ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُغَطِّيَ بِهَا رَأْسَهُ وَنَجْعَلَ عَلَى رِجْلَيْهِ إِذْخِرًا ، وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهُوَ يَهْدِبُهَا " , وَاللَّفْظُ لِإِسْمَاعِيلَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´خباب رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ` ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی ، ہم اللہ تعالیٰ کی رضا چاہ رہے تھے ، اللہ تعالیٰ پر ہمارا اجر ثابت ہو گیا ، پھر ہم میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جو مر گئے ( اور ) اس اجر میں سے ( دنیا میں ) کچھ بھی نہیں چکھا ، انہیں میں سے مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ ہیں ، جو جنگ احد میں قتل کئے گئے ، تو ہم نے سوائے ایک ( چھوٹی ) دھاری دار چادر کے کوئی ایسی چیز نہیں پائی جس میں انہیں کفناتے ، جب ہم ان کا سر ڈھکتے تو پیر کھل جاتا ، اور جب پیر ڈھکتے تو سر کھل جاتا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ان کا سر ڈھک دیں اور ان کے پیروں پہ اذخر نامی گھاس ڈال دیں ، اور ہم میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جن کے پھل پکے اور وہ اسے چن رہے ہیں ( یہ الفاظ اسماعیل کے ہیں ) ۔