کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: تعزیت کی ایک اور قسم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2091
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أُرْسِلَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام ، فَلَمَّا جَاءَهُ صَكَّهُ فَفَقَأَ عَيْنَهُ فَرَجَعَ إِلَى رَبِّهِ , فَقَالَ : أَرْسَلْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لَا يُرِيدُ الْمَوْتَ ، " فَرَدَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ عَيْنَهُ , وَقَالَ : ارْجِعْ إِلَيْهِ فَقُلْ لَهُ يَضَعُ يَدَهُ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ ، فَلَهُ بِكُلِّ مَا غَطَّتْ يَدُهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ سَنَةٌ " ، قَالَ : أَيْ رَبِّ , ثُمَّ مَهْ ، قَالَ : " الْمَوْتُ " قَالَ : فَالْآنَ , " فَسَأَلَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُدْنِيَهُ مِنَ الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ رَمْيَةً بِحَجَرٍ " , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَلَوْ كُنْتُ ثَمَّ لَأَرَيْتُكُمْ قَبْرَهُ إِلَى جَانِبِ الطَّرِيقِ تَحْتَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں` موت کا فرشتہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس بھیجا گیا ، جب وہ ان کے پاس آیا تو انہوں نے اسے ایک طمانچہ رسید کیا ، تو اس کی ایک آنکھ پھوٹ کر بہہ گئی ، چنانچہ اس نے اپنے رب کے پاس واپس جا کر شکایت کی کہ تو نے مجھے ایسے بندے کے پاس بھیج دیا جو مرنا نہیں چاہتا ، اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ اچھی کر دی ، اور کہا : اس کے پاس دوبارہ جاؤ ، اور اس سے کہہ : تم اپنا ہاتھ بیل کی پیٹھ پر رکھو اس کے ہاتھ کے نیچے جتنے بال آئیں گے ہر بال کے عوض انہیں ایک سال کی مزید عمر مل جائے گی ، تو انہوں نے عرض کیا : اے میرے رب ! پھر کیا ہو گا ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : پھر مرنا ہو گا ، ( موسیٰ علیہ السلام ) نے کہا : تب تو ابھی ( مرنا بہتر ہے ) ، تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ وہ انہیں ارض مقدس سے پتھر پھینکنے کی مسافت کے برابر قریب کر دے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر میں اس جگہ ہوتا تو تمہیں راستے کی طرف سرخ ٹیلے کے نیچے ان کی قبر دکھلاتا “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 2091
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الجنائز 68 (1339)، والأنبیاء 33 (3407)، صحیح مسلم/الفضائل 42 (2372)، (تحفة الأشراف: 13519) ، مسند احمد 2/269- 315 (صحیح)»