کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: بالدار چمڑے کی جوتیوں میں قبروں کے درمیان چلنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2050
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ شَيْبَانَ وَكَانَ ثِقَةً ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سُمَيْرٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، أَنَّ بَشِيرَ ابْنَ الْخَصَاصِيَةِ ، قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّ عَلَى قُبُورِ الْمُسْلِمِينَ ، فَقَالَ : " لَقَدْ سَبَقَ هَؤُلَاءِ شَرًّا كَثِيرًا " ، ثُمَّ مَرَّ عَلَى قُبُورِ الْمُشْرِكِينَ , فَقَالَ : " لَقَدْ سَبَقَ هَؤُلَاءِ خَيْرًا كَثِيرًا " ، فَحَانَتْ مِنْهُ الْتِفَاتَةٌ ، فَرَأَى رَجُلًا يَمْشِي بَيْنَ الْقُبُورِ فِي نَعْلَيْهِ , فَقَالَ : " يَا صَاحِبَ السِّبْتِيَّتَيْنِ أَلْقِهِمَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بشیر بن خصاصیہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا کہ آپ مسلمانوں کی قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا : ” یہ لوگ بڑے شر و فساد سے ( بچ ) کر آگے نکل گئے “ ، پھر آپ مشرکوں کی قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا : ” یہ لوگ بڑے خیر سے ( محروم ) ہو کر آگے نکل گئے “ ، پھر آپ متوجہ ہوئے تو دیکھا کہ ایک شخص اپنی دونوں جوتیوں میں قبروں کے درمیان چل رہا ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے سبتی جوتوں والو ! انہیں اتار دو “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 2050
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الجنائز 78 (3230)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 46 (1568)، (تحفة الأشراف: 2021) ، مسند احمد 5/83، 84، 224 (حسن)»