کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: قبریں اونچی بنائی گئی ہوں تو انہیں برابر کر دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2032
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ ثُمَامَةَ بْنَ شُفَيٍّ حَدَّثَهُ , قَالَ : " كُنَّا مَعَ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ بِأَرْضِ الرُّومِ ، فَتُوُفِّيَ صَاحِبٌ لَنَا ، فَأَمَرَ فَضَالَةُ بِقَبْرِهِ فَسُوِّيَ ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِتَسْوِيَتِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ثمامہ بن شفی کہتے ہیں کہ` ہم فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے ساتھ سر زمین روم میں تھے کہ ہمارا ایک ساتھی وفات پا گیا ، تو فضالہ رضی اللہ عنہ نے اس کی قبر ( زمین کے برابر کرنے کا ) حکم دیا ، تو وہ برابر کر دی گئی ۱؎ پھر انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے برابر کرنے کا حکم دیتے سنا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی کوہان کی طرح بنائی جانے کے بجائے مسطح بنائی گئی، گو وہ زمین سے کچھ اونچی ہو، واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 2032
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الجنائز 31 (968)، سنن ابی داود/الجنائز 72 (3219)، (تحفة الأشراف: 11026) ، مسند احمد 6/18، 21 (صحیح)»
حدیث نمبر: 2033
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي الْهَيَّاجِ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَلَا أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " لَا تَدَعَنَّ قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّيْتَهُ ، وَلَا صُورَةً فِي بَيْتٍ إِلَّا طَمَسْتَهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہیاج ( حیان بن حصین اسدی ) کہتے ہیں کہ` علی رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا میں تمہیں اس کام پر نہ بھیجوں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا : تم کوئی بھی اونچی قبر نہ چھوڑنا مگر اسے برابر کر دینا ، اور نہ کسی گھر میں کوئی مجسمہ ( تصویر ) چھوڑنا مگر اسے مٹا دینا ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 2033
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الجنائز 31 (969)، سنن ابی داود/الجنائز 72 (3218)، سنن الترمذی/الجنائز 56 (1049)، (تحفة الأشراف: 10083) ، مسند احمد 1/96، 98، 111، 129 (صحیح)»