کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: فجر کی دو رکعت کے بعد داہنی کروٹ لیٹنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1763
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ بِالْأُولَى مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ بَعْدَ أَنْ يَتَبَيَّنَ الْفَجْرُ ، ثُمَّ يَضْطَجِعُ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` جب مؤذن فجر کی پہلی اذان کہہ کر خاموش ہو جاتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے ، اور فجر نمودار ہونے کے بعد فجر کی نماز سے پہلے ہلکی ہلکی دو رکعتیں پڑھتے ، پھر اپنے داہنے پہلو پر لیٹ جاتے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بیان کیا گیا ہے، اور ابوداؤد اور ترمذی کی ایک روایت میں جو صحیح سندوں سے مروی ہے اس کا حکم بھی آیا ہے جس سے مخالفین کی تاویل باطل ہو جاتی ہے، اور اس کے سنت ہونے میں کوئی کلام نہیں رہ جاتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قيام الليل وتطوع النهار / حدیث: 1763
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الأذان 15 (626)، والتھجد 23 (1160)، 24 (1161)، والدعوات 5 (6310)، (تحفة الأشراف: 16465) (صحیح)»