کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: نو رکعت وتر پڑھنے کی کیفیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1721
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدَةَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنَّا نُعِدُّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِوَاكَهُ وَطَهُورَهُ ، فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنَ اللَّيْلِ فَيَسْتَاكُ وَيَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ فِيهِنَّ إِلَّا عِنْدَ الثَّامِنَةِ ، وَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيُصَلِّي عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَدْعُو بَيْنَهُنَّ وَلَا يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا ، ثُمَّ يُصَلِّي التَّاسِعَةَ وَيَقْعُدُ ، وَذَكَرَ كَلِمَةً نَحْوَهَا ، وَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيُصَلِّي عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَدْعُو , ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا , ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ قَاعِدٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مسواک اور وضو کا پانی تیار کر کے رکھ دیا کرتے تھے ، پھر جب اللہ تعالیٰ کو جگانا منظور ہوتا تورات میں آپ کو جگا دیتا ، آپ مسواک کرتے ( پھر ) وضو کرتے اور نو رکعتیں پڑھتے ، ان میں صرف آٹھویں رکعت پر بیٹھتے ، اور اللہ کی حمد کرتے ، اور اس کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نماز ( درود و رحمت ) بھیجتے ، اور ان کے درمیان دعائیں کرتے ، اور کوئی سلام نہ پھیرتے ، پھر نویں رکعات پڑھتے اور قعدہ کرتے ، راوی نے اس طرح کی کوئی بات ذکر کی کہ آپ اللہ کی حمد کرتے ، اس کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نماز ( درود و رحمت ) بھیجتے ، اور دعا کرتے ، پھر سلام پھیرتے جسے ہمیں سناتے ، پھر بیٹھے بیٹھے دو رکعتیں پڑھتے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قيام الليل وتطوع النهار / حدیث: 1721
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 1316 (صحیح)»
حدیث نمبر: 1722
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى ، قال : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قال : أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قال : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ لَمَّا أَنْ قَدِمَ عَلَيْنَا أَخْبَرَنَا ، أَنَّهُ أَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلَهُ عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَلَا أَدُلُّكَ أَوْ أَلَا أُنَبِّئُكَ بِأَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ بِوِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قُلْتُ : مَنْ ؟ قَالَ : عَائِشَةُ ، فَأَتَيْنَاهَا فَسَلَّمْنَا عَلَيْهَا وَدَخَلْنَا فَسَأَلْنَاهَا , فَقُلْتُ : أَنْبِئِينِي عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ : " كُنَّا نُعِدُّ لَهُ سِوَاكَهُ وَطَهُورَهُ ، فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنَ اللَّيْلِ فَيَتَسَوَّكُ وَيَتَوَضَّأُ ، ثُمَّ يُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَقْعُدُ فِيهِنَّ إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ فَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيَذْكُرُهُ وَيَدْعُو ، ثُمَّ يَنْهَضُ وَلَا يُسَلِّمُ ثُمَّ يُصَلِّي التَّاسِعَةَ فَيَجْلِسُ فَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيَذْكُرُهُ وَيَدْعُو ، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ، فَتِلْكَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يَا بُنَيَّ ، فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَ اللَّحْمَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ فَتِلْكَ تِسْعًا أَيْ بُنَيَّ . (حديث موقوف) (حديث مرفوع) وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَحَبَّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعد بن ہشام بن عامر کہتے ہیں کہ` وہ ابن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس آئے ، اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے بارے میں سوال کیا ، تو انہوں نے کہا : کیا میں تمہیں اس ہستی کو نہ بتاؤں یا اس ہستی کی خبر نہ دوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کو زمین والوں میں سب سے زیادہ جانتی ہے ؟ میں نے پوچھا : وہ کون ہے ؟ انہوں نے کہا : وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں ، تو ہم ان کے پاس آئے ، اور ہم نے انہیں سلام کیا ، اور ہم اندر گئے ، اور اس بارے میں میں نے ان سے پوچھا ، میں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے کہا : ہم آپ کے لیے آپ کی مسواک اور آپ کے وضو کا پانی تیار کر کے رکھ دیتے ، پھر رات کو جب اللہ تعالیٰ کو جگانا منظور ہوتا آپ کو جگا دیتا ، آپ مسواک کرتے اور وضو کرتے ، پھر نو رکعتیں پڑھتے ، سوائے آٹھویں کے ان میں سے کسی میں قعدہ نہیں کرتے ، اللہ کی حمد کرتے اس کا ذکر کرتے ، اور دعا مانگتے ، پھر بغیر سلام پھیرے کھڑے ہو جاتے ، پھر نویں رکعت پڑھتے ، پھر بیٹھتے تو اللہ کی حمد اور اس کا ذکر کرتے اور دعا کرتے ، پھر سلام پھیرتے جسے آپ ہمیں سناتے ، پھر بیٹھے بیٹھے دو رکعتیں پڑھتے ، میرے بیٹے ! اس طرح یہ گیارہ رکعتیں ہوتی تھیں ، لیکن جب آپ بوڑھے ہو گئے اور آپ کے جسم پر گوشت چڑھ گیا تو آپ وتر سات رکعت پڑھنے لگے ، پھر سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو رکعتیں پڑھتے ، اس طرح میرے بیٹے ! یہ کل نو رکعتیں ہوتی تھیں ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز پڑھتے تو چاہتے کہ اس پر مداومت کریں ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قيام الليل وتطوع النهار / حدیث: 1722
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 1316، 1602 (صحیح)»
حدیث نمبر: 1723
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى ، قال : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قال : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قال : أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَهَا تَقُولُ : " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ بِتِسْعِ رَكَعَاتٍ ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ، فَلَمَّا ضَعُفَ أَوْتَرَ بِسَبْعِ رَكَعَاتٍ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نو رکعت وتر پڑھتے تھے ، پھر دو رکعت بیٹھ کر پڑھتے ، تو جب آپ کمزور ہو گئے تو سات رکعت وتر پڑھنے لگے ، پھر دو رکعت بیٹھ کر پڑھتے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قيام الليل وتطوع النهار / حدیث: 1723
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 1652 (صحیح)»
حدیث نمبر: 1724
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قال : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قال : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُوتِرُ بِتِسْعٍ وَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نو رکعت وتر پڑھتے تھے ، اور دو رکعت بیٹھ کر پڑھتے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قيام الليل وتطوع النهار / حدیث: 1724
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16099) (صحیح)»
حدیث نمبر: 1725
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخَلَنْجِيُّ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَعْنِي مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، قال : حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ نَافِعٍ ، قال : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، أَنَّهُ وَفَدَ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ , فَسَأَلَهَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ : " كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَمَانَ رَكَعَاتٍ وَيُوتِرُ بِالتَّاسِعَةِ , وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ " مُخْتَصَرٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعد بن ہشام سے روایت ہے کہ` وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے ، اور انہوں نے ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق پوچھا ، تو انہوں نے بتایا : آپ رات کو آٹھ رکعتیں پڑھتے ، اور نویں رکعت کے ذریعہ اسے وتر کر لیتے ، پھر آپ بیٹھ کر دو رکعت پڑھتے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قيام الليل وتطوع النهار / حدیث: 1725
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 1652 (صحیح)»
حدیث نمبر: 1726
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنِ الْأَعْمَشِ أُرَاهُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نو رکعتیں پڑھتے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قيام الليل وتطوع النهار / حدیث: 1726
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «سنن الترمذی/الصلاة 211 (443، 444)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 181 (1360)، (تحفة الأشراف: 15951) ، مسند احمد 6/100، 253 (صحیح)»