کتب حدیث ›
سنن نسائي › ابواب
› باب: پانچ رکعت وتر کیسے پڑھی جائے؟ اور وتر کی حدیث کے سلسلے میں حکم سے روایت کرنے والے راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 1715
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِخَمْسٍ وَبِسَبْعٍ ، لَا يَفْصِلُ بَيْنَهَا بِسَلَامٍ وَلَا بِكَلَامٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´منصور روایت کرتے ہیں حکم سے ، اور وہ مقسم سے اور مقسم ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے وہ کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانچ یا سات رکعت وتر پڑھتے ، اور ان کے درمیان آپ سلام کے ذریعہ فصل نہیں کرتے تھے اور نہ کلام کے ذریعہ ۔
حدیث نمبر: 1716
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ ، قال : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِسَبْعٍ أَوْ بِخَمْسٍ لَا يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِتَسْلِيمٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´منصور حکم سے روایت کرتے ہیں ، اور وہ مقسم سے اور مقسم ابن عباس رضی اللہ عنہم سے اور ابن عباس رضی اللہ عنہم ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے وہ کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سات یا پانچ رکعت وتر پڑھتے تھے ، اور ان کے درمیان سلام کے ذریعہ فصل نہیں کرتے تھے ۔
حدیث نمبر: 1717
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ يَزِيدَ ، قال : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ الْحُسَيْنِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، قال : " الْوِتْرُ سَبْعٌ فَلَا أَقَلَّ مِنْ خَمْسٍ " فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ , فَقَالَ : عَمَّنْ ذَكَرَهُ ؟ قُلْتُ : لَا أَدْرِي قَالَ الْحَكَمُ : فَحَجَجْتُ فَلَقِيتُ مِقْسَمًا , فَقُلْتُ لَهُ : عَمَّنْ ؟ قَالَ : عَنِ الثِّقَةِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَعَنْ مَيْمُونَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سفیان بن الحسین حکم سے روایت کرتے ہیں ، اور وہ مقسم سے ، مقسم کہتے ہیں کہ` وتر سات رکعت ہے اور پانچ سے کم نہیں ، میں نے یہ بات ابراہیم سے ذکر کی ، تو انہوں نے کہا : انہوں نے اسے کس کے واسطہ سے ذکر کیا ہے ؟ تو میں نے کہا : مجھے نہیں معلوم ، حکم کہتے ہیں : پھر میں حج کو گیا تو میں نے مقسم سے ملاقات کی ، اور ان سے پوچھا کہ یہ بات آپ نے کس سے سنی ہے ؟ تو انہوں نے کہا : ایک ثقہ شخص سے ۱؎ ، اور اس نے عائشہ رضی اللہ عنہا اور میمونہ رضی اللہ عنہا سے سنی ہے ۔
وضاحت:
۱؎: غالباً ثقہ شخص سے مراد ابن عباس رضی اللہ عنہم ہیں کیونکہ مقسم برابر انہیں سے چمٹے رہتے تھے، اور انہوں نے ولاء کی نسبت بھی انہیں کی طرف کی ہے، یا عن عائشہ وعن میمونہ ”عن الثقۃ “ سے بدل ہے ایسی صورت میں ترجمہ ہو گا ثقہ سے سنی ہے یعنی عائشہ اور میمونہ سے سنی ہے۔
حدیث نمبر: 1718
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قال : أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ بِخَمْسٍ , وَلَا يَجْلِسُ إِلَّا فِي آخِرِهِنَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پانچ رکعت وتر پڑھتے تھے ، اور ان کے آخر ہی میں بیٹھتے تھے ۔