کتب حدیث ›
سنن نسائي › ابواب
› باب: وتر کے سلسلے میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کی حدیث میں حبیب بن ابی ثابت پر اختلاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 1705
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قال : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، قال : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّهُ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَاسْتَنَّ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ نَامَ ، ثُمَّ قَامَ فَاسْتَنَّ ثُمَّ تَوَضَّأَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى صَلَّى سِتًّا ، ثُمَّ أَوْتَرَ بِثَلَاثٍ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھے اور مسواک کی ، پھر دو رکعت نماز پڑھی ، پھر سو گئے ، ( دوبارہ ) آپ پھر اٹھے ، اور مسواک کی ، پھر وضو کیا ، اور دو رکعت نماز پڑھی یہاں تک کہ آپ نے چھ رکعتیں پڑھیں ، پھر تین رکعتیں وتر کی اور دو رکعتیں ( فجر کی ) پڑھیں ۔
حدیث نمبر: 1706
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قال : حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قال : " كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ فَتَوَضَّأَ وَاسْتَاكَ وَهُوَ يَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ حَتَّى فَرَغَ مِنْهَا إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لآيَاتٍ لأُولِي الأَلْبَابِ سورة آل عمران آية 190 , ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ عَادَ فَنَامَ حَتَّى سَمِعْتُ نَفْخَهُ ، ثُمَّ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَاسْتَاكَ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ نَامَ ، ثُمَّ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَاسْتَاكَ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَأَوْتَرَ بِثَلَاثٍ " ،
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ` میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا ، آپ نیند سے بیدار ہوئے ، آپ نے وضو کیا ، مسواک کی ، آپ یہ آیت پڑھ رہے تھے : «إن في خلق السموات والأرض واختلاف الليل والنهار لآيات لأولي الألباب» ” آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے ہیر پھیر میں یقیناً عقل مندوں کے لیے نشانیاں ہیں “ ( آل عمران : ۱۹۰ ) یہاں تک کہ آپ اس سے فارغ ہوئے ، پھر آپ نے دو رکعتیں پڑھیں ، پھر آپ واپس آئے ، اور سو گئے یہاں تک کہ میں نے آپ کے خراٹے کی آواز سنی ، پھر آپ اٹھے ، اور وضو کیا ، مسواک کی ، پھر دو رکعت نماز پڑھی ، اور تین رکعت وتر پڑھی ۔
حدیث نمبر: 1707
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَبَلَةَ , قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ مَخْلَدٍ ثِقَةٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدٍ , عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ : اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَنَّ وَسَاقَ الْحَدِيثَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو آپ نے مسواک کی ، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی ۔
حدیث نمبر: 1708
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ , عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ , عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قال : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَمَانَ رَكَعَاتٍ وَيُوتِرُ بِثَلَاثٍ وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ " , خَالَفَهُ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ فَرَوَاهُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو آٹھ رکعتیں پڑھتے ، اور تین رکعت وتر پڑھتے ، اور دو رکعت فجر کی نماز سے پہلے پڑھتے ۔ عمرو بن مرہ نے حبیب کی مخالفت کی ہے ، انہوں نے اسے یحییٰ بن الجزار سے اور یحییٰ جزار نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے ، اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ، ( یعنی اس کو مسند ابن عباس رضی اللہ عنہم کے بجائے مسند ام سلمہ رضی اللہ عنہا میں سے قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 1709
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ، فَلَمَّا كَبِرَ وَضَعُفَ أَوْتَرَ بِتِسْعٍ " خَالَفَهُ عُمَارَةُ بْنُ عُمَيْرٍ فَرَوَاهُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنْ عَائِشَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ رکعت وتر پڑھتے تھے ، پھر جب آپ بوڑھے اور کمزور ہو گئے تو آپ نو رکعت وتر پڑھنے لگے ۔ عمارہ بن عمیر نے عمرو کی مخالفت کی ہے ، انہوں نے اسے یحییٰ بن جزار سے اور یحییٰ بن جزار نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے ۔ ( یعنی عمارہ بن عمیر نے اس کو مسند ام سلمہ کی بجائے مسند عائشہ رضی اللہ عنہا میں سے قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 1710
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قال : حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعًا ، فَلَمَّا أَسَنَّ وَثَقُلَ صَلَّى سَبْعًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نو رکعتیں پڑھتے تھے ، جب آپ بوڑھے اور ( گوشت چڑھ جانے کی وجہ سے ) بھاری بھر کم ہو گئے تو ( صرف ) سات رکعتیں پڑھنے لگے ۔