حدیث نمبر: 1628
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : أَنْبَأَنَا يَزِيدُ ، قال : أَنْبَأَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " مَا كُنَّا نَشَاءُ أَنْ نَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ مُصَلِّيًا , إِلَّا رَأَيْنَاهُ وَلَا نَشَاءُ أَنْ نَرَاهُ نَائِمًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات میں نماز ( تہجد ) پڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتے تو دیکھ لیتے ، اور آپ کو سوتے ہوئے دیکھنا چاہتے تو دیکھ لیتے تھے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ آپ رات میں سوتے بھی تھے، اور نماز بھی پڑھتے تھے، نہ ساری رات جاگتے ہی تھے، اور نہ ساری رات سوتے ہی تھے۔
حدیث نمبر: 1629
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قال : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ يَعْلَى بْنَ مَمْلَكٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ : " كَانَ يُصَلِّي الْعَتَمَةَ ثُمَّ يُسَبِّحُ ثُمَّ يُصَلِّي بَعْدَهَا مَا شَاءَ اللَّهُ مِنَ اللَّيْلِ , ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَرْقُدُ مِثْلَ مَا صَلَّى , ثُمَّ يَسْتَيْقِظُ مِنْ نَوْمِهِ ذَلِكَ فَيُصَلِّي مِثْلَ مَا نَامَ ، وَصَلَاتُهُ تِلْكَ الْآخِرَةُ تَكُونُ إِلَى الصُّبْحِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´یعلیٰ بن مملک سے روایت ہے کہ` انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں سوال کیا ، تو انہوں نے کہا : آپ عتمہ ( عشاء کی نماز ) پڑھتے تھے پھر سنتیں پڑھتے ، پھر اس کے بعد رات میں جتنا اللہ چاہتا پڑھتے ، پھر آپ واپس جا کر جتنی دیر تک آپ نے نماز پڑھی تھی اسی کے بقدر سوتے ، پھر آپ اپنی اس نیند سے بیدار ہوتے تو جتنی دیر تک سوئے تھے اسی کے بقدر نماز پڑھتے ، اور آپ کی یہ دوسری مرتبہ والی نماز صبح ( فجر ) تک جاری رہتی ۔
حدیث نمبر: 1630
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قِرَاءَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنْ صَلَاتِهِ , فَقَالَتْ : " مَا لَكُمْ وَصَلَاتَهُ كَانَ يُصَلِّي ثُمَّ يَنَامُ قَدْرَ مَا صَلَّى , ثُمَّ يُصَلِّي قَدْرَ مَا نَامَ ثُمَّ يَنَامُ قَدْرَ مَا صَلَّى حَتَّى يُصْبِحَ ، ثُمَّ نَعَتَتْ لَهُ قِرَاءَتَهُ فَإِذَا هِيَ تَنْعَتُ قِرَاءَةً مُفَسَّرَةً حَرْفًا حَرْفًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´یعلیٰ بن مملک سے روایت ہے کہ` انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت اور آپ کی نماز کے متعلق سوال کیا ، تو انہوں نے کہا : تمہیں آپ کی نماز سے کیا سروکار ؟ ۱؎ آپ نماز پڑھتے تھے ، پھر جتنی دیر تک آپ نے نماز پڑھی تھی اسی کے بقدر آپ سوتے ، پھر جتنی دیر تک سوئے تھے اسی کے بقدر آپ اٹھ کر نماز پڑھتے ، پھر جتنی دیر تک نماز پڑھی تھی اسی کے بقدر آپ سوتے یہاں تک کہ آپ صبح کرتے ، پھر انہوں نے ان سے آپ کی قرآت کی کیفیت بیان کی ، تو وہ ایک ایک حرف واضح کر کے بیان کر رہی تھیں ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی تمہارا اسے پوچھنا بےسود ہے کیونکہ تم ویسی نماز نہیں پڑھ سکتے۔