کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: بارش روکنے کی دعا کے وقت امام اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے۔
حدیث نمبر: 1529
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، قال : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قال : أَنْبَأَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قال : أَصَابَ النَّاسُ سَنَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَامَ أَعْرَابِيٌّ , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , هَلَكَ الْمَالُ وَجَاعَ الْعِيَالُ فَادْعُ اللَّهَ لَنَا ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , مَا وَضَعَهَا حَتَّى ثَارَ سَحَابٌ أَمْثَالُ الْجِبَالِ ، ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ عَنْ مِنْبَرِهِ حَتَّى رَأَيْتُ الْمَطَرَ يَتَحَادَرُ عَلَى لِحْيَتِهِ ، فَمُطِرْنَا يَوْمَنَا ذَلِكَ وَمِنَ الْغَدِ وَالَّذِي يَلِيهِ حَتَّى الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى ، فَقَامَ ذَلِكَ الْأَعْرَابِيُّ أَوْ قَالَ غَيْرُهُ , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , تَهَدَّمَ الْبِنَاءُ وَغَرِقَ الْمَالُ فَادْعُ اللَّهَ لَنَا ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ , فَقَالَ : " اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا " , فَمَا يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ السَّحَابِ إِلَّا انْفَرَجَتْ , حَتَّى صَارَتِ الْمَدِينَةُ مِثْلَ الْجَوْبَةِ وَسَالَ الْوَادِي , وَلَمْ يَجِئْ أَحَدٌ مِنْ نَاحِيَةٍ إِلَّا أَخْبَرَ بِالْجَوْدِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ( ایک بار ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگوں کو قحط سالی سے دو چار ہونا پڑا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران ایک اعرابی ( بدو ) کھڑا ہوا ، اور کہنے لگا : اللہ کے رسول ! مال ( جانور ) ہلاک ہو گئے ، اور بال بچے بھوکے ہیں ، لہٰذا آپ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو اٹھایا ، اس وقت ہمیں آسمان پر بادل کا کوئی ٹکڑا دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔ آپ نے اپنے ہاتھوں کو ابھی نیچے بھی نہیں کیا تھا کہ بادل پہاڑ کے مانند امنڈنے لگا ، اور آپ ابھی اپنے منبر سے اترے بھی نہیں کہ میں نے دیکھا بارش کا پانی آپ کی داڑھی سے ٹپک رہا ہے ، ہم پر اس دن ، دوسرے دن اور اس کے بعد والے دن یہاں تک کہ دوسرے جمعہ تک برابر بارش ہوتی رہی ، تو وہی اعرابی یا کوئی اور شخص کھڑا ہوا ، اور کہنے لگا : اللہ کے رسول ! عمارتیں منہدم ہو گئیں ، اور مال و اسباب ڈوب گئے ، لہٰذا آپ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے ۔ تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو اٹھایا ، اور آپ نے یوں دعا کی : «اللہم حوالينا ولا علينا» ” اے اللہ ! ہمارے اطراف میں برسا اور ( اب ) ہم پر نہ برسا “ چنانچہ آپ نے اپنے ہاتھ سے بادل کی جانب جس طرف سے بھی اشارہ کیا ، وہ وہاں سے چھٹ گئے یہاں تک کہ مدینہ ایک گڈھے کی طرح لگنے لگا ، اور وادی پانی سے بھر گئی ، اور جو بھی کوئی کسی طرف سے آتا یہی بتاتا کہ خوب بارش ہوئی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الاستسقاء / حدیث: 1529
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الجمعة 35 (933)، الإستسقاء 11 (1018)، 24 (1032)، صحیح مسلم/الإستسقاء 2 (897)، (تحفة الأشراف: 174) ، مسند احمد 3/256 (صحیح)»