حدیث نمبر: 1514
أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنَ الدُّعَاءِ إِلَّا فِي الِاسْتِسْقَاءِ ، فَإِنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوائے استسقاء کے اپنے دونوں ہاتھ کسی دعا میں نہیں اٹھاتے تھے ، آپ اس میں اپنے دونوں ہاتھ اتنا بلند کرتے کہ آپ کے بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگتی ۔
حدیث نمبر: 1515
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ ، عَنْ آبِي اللَّحْمِ ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ أَحْجَارِ الزَّيْتِ : " يَسْتَسْقِي وَهُوَ مُقْنِعٌ بِكَفَّيْهِ يَدْعُو " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´آبی اللحم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احجار الزیت کے پاس دیکھا کہ آپ بارش کے لیے دعا کر رہے تھے ، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اٹھائے دعا کر رہے تھے ۔
وضاحت:
۱؎: ”احجار الزیت“ مدینہ میں ایک مقام کا نام ہے۔
حدیث نمبر: 1516
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قال : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ سَعِيدٍ وَهُوَ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ ، يَقُولُ : بَيْنَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ ، فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَقَطَّعَتِ السُّبُلُ وَهَلَكَتِ الْأَمْوَالُ وَأَجْدَبَ الْبِلَادُ ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَسْقِيَنَا ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ حِذَاءَ وَجْهِهِ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اسْقِنَا " ، فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِنْبَرِ حَتَّى أُوسِعْنَا مَطَرًا وَأُمْطِرْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ إِلَى الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى ، فَقَامَ رَجُلٌ لَا أَدْرِي هُوَ الَّذِي قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَسْقِ : لَنَا أَمْ لَا ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، انْقَطَعَتِ السُّبُلُ وَهَلَكَتِ الْأَمْوَالُ مِنْ كَثْرَةِ الْمَاءِ ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يُمْسِكَ عَنَّا الْمَاءَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا وَلَكِنْ عَلَى الْجِبَالِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ " ، قَالَ : وَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ تَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ تَمَزَّقَ السَّحَابُ حَتَّى مَا نَرَى مِنْهُ شَيْئًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم لوگ جمعہ کے روز مسجد میں تھے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! راستے ( سفر ) ٹھپ ہو گئے ، جانور ہلاک ہو گئے ، اور علاقے خشک سالی کا شکار ہو گئے ، لہٰذا آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے کہ وہ ہمیں سیراب کرے ۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے چہرے کے بالمقابل اٹھایا ، پھر آپ نے دعا کی : «اللہم اسقنا» ” اے اللہ ! ہمیں سیراب کر “ تو قسم اللہ کی ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی منبر سے اترے بھی نہ تھے کہ زور دار بارش ہونے لگی ، اور اس دن سے دوسرے جمعہ تک بارش ہوتی رہی ۔ چنانچہ پھر ایک آدمی کھڑا ہوا ( مجھے یاد نہیں کہ یہ وہی شخص تھا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بارش کے لیے دعا کرنے کے لیے کہا تھا یا کوئی دوسرا شخص تھا ) اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! پانی کی زیادتی کی وجہ سے راستے بند ہو گئے ہیں ، اور جانور ہلاک ہو گئے ہیں ، لہٰذا آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے کہ وہ ( اب ) ہم سے بارش روک لے ۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی : «اللہم حوالينا ولا علينا ولكن على الجبال ومنابت الشجر» ” اے اللہ ! ہمارے اطراف میں برسا ، ہم پر نہ برسا ، اور پہاڑوں پر اور درختوں کے اگنے کی جگہوں پر برسا “ ۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : قسم اللہ کی ! آپ کا یہ کہنا ہی تھا کہ بادل پھٹ پھٹ کر ( آسمان صاف ہو گیا ) یہاں تک کہ ہمیں اس میں سے کچھ نہیں دکھائی دے رہا تھا ۔