کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: کتنے دن کی اقامت تک نماز قصر کی جا سکتی ہے؟
حدیث نمبر: 1453
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، قال : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قال : أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قال : " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ ، فَكَانَ يُصَلِّي بِنَا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعْنَا " , قُلْتُ : هَلْ أَقَامَ بِمَكَّةَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَقَمْنَا بِهَا عَشْرًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ جانے کے لیے نکلے ، تو آپ ہمیں دو رکعت پڑھاتے رہے یہاں تک کہ ہم واپس لوٹ آئے ، یحییٰ بن ابی اسحاق کہتے ہیں : میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا آپ نے مکہ میں قیام کیا تھا ؟ انہوں نے کہا : ہاں ، ہم نے وہاں دس دن قیام کیا تھا ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب تقصير الصلاة فى السفر / حدیث: 1453
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 1439 (صحیح)»
حدیث نمبر: 1454
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ الْبَصْرِيُّ ، قال : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَامَ بِمَكَّةَ خَمْسَةَ عَشَرَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں پندرہ دن ٹھہرے رہے ۱؎ اور آپ دو دو رکعتیں پڑھتے رہے ۔
وضاحت:
۱؎: یہ فتح مکہ کی بات ہے اور دس دن کے قیام والی روایت حجۃ الوداع کے موقع کی ہے، فتح مکہ کے موقع پر مکہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے دنوں تک قیام کیا اس سلسلہ میں روایتیں مختلف ہیں، صحیح بخاری کی روایت میں ۱۹ دن کا ذکر ہے، اور ابوداؤد کی ایک روایت اٹھارہ دن، اور دوسری میں سترہ دن کا ذکر ہے، تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ جس نے دخول اور خروج کے دنوں کو شمار نہیں کیا، اس نے سترہ کی روایت کی ہے اور جس نے دخول کا شمار کیا اور خروج کا نہیں یا خروج کا شمار کیا اور دخول کا نہیں، اس نے اٹھارہ کی روایت کی ہے، رہی پندرہ دن والی مؤلف کی روایت تو یہ شاذ ہے، اور اگر اسے صحیح مان لیا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ راوی نے سمجھا کہ اصل ۱۷ دن ہے، پھر اس میں سے دخول اور خروج کو خارج کر کے ۱۵ دن کی روایت کی۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب تقصير الصلاة فى السفر / حدیث: 1454
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح بلفظ تسعة عشر يوما , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 5832)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 279 (1231)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 76 (1076) (شاذ) (کیوں کہ تمام صحیح روایات کے خلاف ہے، صحیح روایت ’’ انیس دن‘‘ کی ہے)»
حدیث نمبر: 1455
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قال : أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ , يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَمْكُثُ الْمُهَاجِرُ بَعْدَ قَضَاءِ نُسُكِهِ ثَلَاثًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مہاجر حج و عمرہ کے ارکان و مناسک پورے کرنے کے بعد ( مکہ میں ) تین دن تک ٹھر سکتا ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب تقصير الصلاة فى السفر / حدیث: 1455
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح البخاری/مناقب الأنصار 47 (3933)، صحیح مسلم/الحج 81 (1352)، سنن ابی داود/الحج 92 (2022)، سنن الترمذی/الحج 103 (949)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 76 (1073)، (تحفة الأشراف: 11008) ، مسند احمد 4/339، 5/52، سنن الدارمی/الصلاة 180 (1553) (صحیح)»
حدیث نمبر: 1456
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ , قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ فِي حَدِيثِهِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ ، قال : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَمْكُثُ الْمُهَاجِرُ بِمَكَّةَ بَعْدَ نُسُكِهِ ثَلَاثًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مہاجر اپنے نسک ( حج و عمرہ کے ارکان ) پورے کرنے کے بعد مکہ میں تین دن ٹھر سکتا ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب تقصير الصلاة فى السفر / حدیث: 1456
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (صحیح)»
حدیث نمبر: 1457
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الصُّوفِيُّ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قال : حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ زُهَيْرٍ الْأَزْدِيُّ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا اعْتَمَرَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ ، حَتَّى إِذَا قَدِمَتْ مَكَّةَ قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي قَصَرْتَ وَأَتْمَمْتُ وَأَفْطَرْتَ وَصُمْتُ , قَالَ : " أَحْسَنْتِ يَا عَائِشَةُ وَمَا عَابَ عَلَيَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عمرہ کرنے کے لیے مدینہ سے مکہ کے لیے نکلیں یہاں تک کہ جب وہ مکہ آ گئیں ، تو انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ! آپ نے نماز قصر پڑھی ہے ، اور میں نے پوری پڑھی ہے ، اور آپ نے روزہ نہیں رکھا ہے اور میں نے رکھا ہے تو آپ نے فرمایا : ” عائشہ ! تم نے اچھا کیا “ ، اور آپ نے مجھ پر کوئی نکیر نہیں کی ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب تقصير الصلاة فى السفر / حدیث: 1457
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: منكر , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16298) (منکر) (سند میں ’’عبدالرحمن‘‘ اور ’’ عائشہ رضی اللہ عنہا ‘‘ کے درمیان انقطاع ہے، نیز یہ تمام صحیح روایات کے خلاف ہے، آپ صلی الله علیہ وسلم نے رمضان میں کوئی عمرہ نہیں کیا ہے، جبکہ اس روایت کے بعض طرق میں ’’رمضان میں‘‘ کا تذکرہ ہے)»